in ,

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟
تحریر: رفاقت حسین

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جمائی تھکاوٹ اور نیند کو ظاہر کرتی ہے ۔ ہر انسان اس کیفیت سے گزرتا ہے اور بعض اوقاف تو دوران محفل جمائی لینے کو ادب کے خلاف بھی تصور کیا جاتا ہے ۔۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جمائی کے بارے سوچنے سے یا کسی کو جمائی لیتے ہوئے دیکھنے سے بھی آپ جمائیاں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
لیکن کیا واقعی یہ نیند یا تھکاوٹ یا بور ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ؟ جدید سائنس ہمیں اسکے بارے میں ہمیں کیا بتاتی ہے ؟.
پرانی تحقیق کے مطابق ہم جمائی اس لئیے لیتے ہیں کیونکہ ہمارا جسم اس طرح سے آکسیجن کی کمی کوپورا کرتا ہے لیکن اس تھیوری کو اب سائنسدان پوری طرح صحیح نہیں سمجھتے۔
اس بارے میں موجود نظریہ جسکو اس وقت زیادہ ماہرین کی حمایت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ جمائی لینے کے پیچھے دراصل وجہ درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ 2014 میں جرنل آف فزیالوجی اینڈ بیہیوئیر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 120 لوگوں کی جمائیوں کے پیٹرن کو سٹڈی کیا گیا اور یہ دیکھا گیا سرد موسم میں جمائیوں میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ مطلب گرم موسم میں دماغ اور جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے آپکا جسم خود بخود یہ عمل کرتا ہے۔
جب آب تھکے ہوئے ہوتے ہیں آپکا دماغ اپنا فنکشن کم کرنا شروع کردیتا ہے اور اس دوران جمائی لینے سے درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔
بوریت کی حالت میں دماغ محرک محسوس نہیں کرپاتا اور جمائی کا عمل اسکے درجہ حرارت کو کم کردیتا ہے جیسے ایک کمپیوٹر کوئی ایکٹیویٹی نہ ہونے پر خود بخود سلیپ میں چلا جاتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپکا جسم اپنے آپ کو جگانے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ جمائی لینے سے پھیپھڑوں کے ٹشوز کھلتے ہیں ۔ اسکے علاوہ پٹھوں اور جوڑوں میں حرکت پیدا ہوتی ہے ۔ جمائی لینے کی وجہ خون کو چہرے اور دماغ کی طرف تیزی سے بھیجنا بھی ہوسکتا ہے تاکہ دماغ ایکٹو ہوسکے۔
کیا یہ عمل متعدی ہے ؟
جی ہاں بہت سے شواہد موجود ہیں جسکی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی اور کو جمائی لیتے ہوئے دیکھ کر انسان جمائی لینا شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک سٹڈی کے اندر 135 کالج کے طلباء کے اندر اس قسم کے رویوں کو دیکھا گیا ۔
آپ خود اس بات کو تجرباتی طور پر دیکھ سکتے ہیں کوئی ویڈیو دیکھ لیں جس میں کوئی شخص جمائی لے رہا ہو ۔ اگر آپ بھی اسکو دیکھ کر جمائی لینا شروع کر دیتے ہیں تو اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں ۔ ماہرین کے مطابق آپکا رویہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپکے اندر ہمدردی کاعنصر موجود ہے ۔ اس تحقیق کو عام طور پر تمام لوگوں پر لاگو جاسکتا کیونکہ اس میں کچھ لوگوں کو سٹڈی کیا گیا ہے اور اگر آپ جمائی لیتے ہوئے کسی کو دیکھ کر نارمل رہتے ہیں تو اس میں ڈرنے کی بات نہیں۔ ہے آپ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار نہیں ہیں۔
کیا جمائیوں کو روکا جاسکتا ہے ؟؟
جی آپ مختلف طریقوں سے اس کو روک۔سکتے ہیں۔
1. ناک سے لمبی سانس کی ورزش کرنے سے جمائی کو روکا جاسکتا ہے۔ 2007 کی ایک سٹڈی میں اس بات کو کنفرم کیا گیا ہے۔ زیادہ تر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہوتا ہے ۔
2. اگر آپ کو زیادہ جمائیاں آرہی ہیں جسکی وجہ بوریت غنودگی ہے تو آپ چلنا شروع کردیں یا پھر کوئی مرچ والی چیز کھا لیں اس سے دماغ کی ایکٹیویٹی میں اضافہ ہوگا۔
3. ٹھنڈی جگہ پر جانے سے یا پھر ٹھنڈا پانی پینے سے بھی جمائی رک جاتی ہے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مصری ممی۔۔۔تین ہزار سال بعد دوبارہ بول اٹھی؟

کائنات – قسط نمبر 1 – ڈاکٹر محمد رحمان