in ,

کائنات – قسط نمبر 9 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 9 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 9
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان
کائنات کا نظم

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ ذرات کی سپن کے حساب سے مختلف مساواتیں موجود ہیں جنہیں ان ذرات کے مطالعہ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اب ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ان مساواتوں کو ایک لڑی میں پرونا ہے تاکہ ان ذرات کے تعاملات کوسمجھنے میں مدد مل سکے۔ اس لڑی کو تکنیکی زبان میں سٹینڈرڈ ماڈل کا لیگرانجیئن کہا جاتا ہے اور لیگرانجیئن لکھنے میں گیج ٹرانسفارمیشن کا اصول ہماری مدد کرتا ہے۔ اس اصول کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں سمٹری (symmetry) یا نظم کا تصور سمجھنا ضروری ہے۔ اگر آپ کاغذ پر ایک دائرہ بنائیں اور اس کاغذ کو کسی بھی زاویے سے گھمائیں تو دائرہ دیکھنے میں دائرہ ہی رہے گا چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ دائرہ روٹیشنل سمٹری کا حامل ہے اسی طرح متساوی الاضلاع مثلث (equilateral triangle) کو ساٹھ ڈگری زاویے پر گھمانے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ متساوی الاضلاع مثلث ساٹھ ڈگری روٹیٹ (rotate) کرنے پر سمٹرک (symmetric) ہے۔ نوتھرز تھیورم کے مطابق بقا کا ہر قانون کائنات میں موجود کسی نظم کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔ کائنات کا سب سے اہم نظم زمان و مکان کا نظم ہے (جسے تکنیکی زبان میں لارینٹز انویرینس کہا جاتا ہے) جو کہ قانون بقائے توانائی اور قانون بقائے مومینٹم کی بنیاد ہے۔ اسی طرح روٹییشنل سمٹری یا دائروی نظم قانون بقائے اینگولر مومینٹم کا باعث بنتا ہے۔ ان کے علاوہ کائنات میں قانون بقائے الیکٹرومیگنیٹک چارج اور قانون بقائے سٹرونگ چارج بھی موجود ہیں جو گیج ٹرانسفارمیشن کے مرہون منت ہیں اور انٹرنل سمٹری یا اندورنی نظم کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ نظم کے یہ سارے قوانین اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اگر یہ قوانین موجود نہ ہوتے تو یہ کائنات ہی موجود نہ ہوتی۔ ان میں تھوڑا سا خلل اس کائنات کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

گیج ٹرانسفارمیشن اور انویریئنس|
میکسویل اکویشنز کے بارے میں تو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ الیکٹرومیگنیٹک فور ویکٹر پوٹینشل میں ایک خاص طریقے سے کمی بیشی کرنے کے باوجود میکسویل اکویشنز میں تبدیلی نہیں آتی، سائنسی زبان میں میکسویل اکویشنز گیج انویرئنٹ (gauge invariant) ہیں۔ مگر سوال یہ تھا کہ کیا سپن زیرو فیلڈ اور سپن ہاف فیلڈ کے لیے اس طرح کا نظم موجود ہے یا نہیں؟ اگرسپن زیرو اور سپن ہاف فیلڈز کو (Local) فیز ٹرانسفارم کیا جائے تو فری کلائن گورڈن اکویشن اور فری ڈراک اکویشن انویریئنٹ نہیں رہتی یعنی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ فری ڈراک اکویشن میں دو ٹرمز ہوتی ہیں جس میں پہلی ٹرم کو کائنیٹک ٹرم اور دوسری کو ماس ٹرم کہتے ہیں۔ اس سے اگلے مرحلے میں یہ کیا جا سکتا ہے کہ الیکٹرومیگنیٹک پوٹینشل (سپن ون فیلڈ) کی موجودگی میں سپن ہاف فیلڈ اور سپن زیرو فیلڈ پر فیز ٹرانسفارمیشنز اپلائی کی جائیں۔ اس صورت میں ڈراک اور کلائن گورڈن لیگرانجیئن (Lagrangian) تو تبدیل نہیں ہوتا مگر الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کے لیے ماس ٹرم کی موجودگی لیگرانجیئن کو تبدیل کر دیتی ہے۔ چنانچہ گیج انویرینس کا تقاضہ یہ ہے کہ الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا عام الفاظ میں فوٹان کمیت کا حامل نہیں ہو سکتا۔ چونکہ تجرباتی طور پر بھی فوٹان کی کمیت صفر ہی ہے اس لئے ہمیں یہاں تک کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن اگر اس سلسلے کو استعمال کرتے ہوئے ہم ویک فورس کو بھی شامل کرنا چاہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مادی ذرات جیسے کہ الیکٹران اور کوارکس کے لئے بھی ماس ٹرم نہیں لکھی جا سکتی کیونکہ اس ٹرم کی موجودگی میں لیگرانجین کا نظم ٹوٹ جاتا ہے۔

اس ساری تگ و دو کی خوش آئند بات یہ ہے کہ کم از کم کائنیٹک ٹرمز انویرئنٹ رہتی ہیں مگر پریشان کن پہلو یہ ہے کہ ہم سپن ہاف ذرات کے لیے ماس ٹرم نہیں لکھ سکتے کیونکہ لیگرانجیئن انویرئنٹ نہیں رہتا۔ اور سپن ہاف ذرات میں نیوٹرینوز کے علاوہ (سٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق ) سارے ذرات ماس رکھتے ہیں۔ اب ہم جانتے ہیں کہ نیوٹرینوز بھی ماس رکھتے ہیں مگر سٹینڈرڈ ماڈل میں انہیں ماس لیس تصور کیا گیا تھا۔ اب تک یہ واضح ہو چکا ہے کہ گیج انویرینئس ہی وہ اصول ہے جو ان تمام مساواتوں کو یکجا کر کے ذرات کے تعاملات کی تھیوری وضع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے گروپ تھیوری کے ریاضیاتی اصول استعمال کیے جاتے ہیں مگر میں ان کی تفصیل میں جانے سے گریز کروں گا۔ (جاری)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 8 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 10 – ڈاکٹر محمد رحمان