in ,

کائنات – قسط نمبر 8 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 8 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 8
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان۔

ذرات کے نظریاتی مطالعہ کے لیے درکار مشینری۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سائز میں بڑے اور کم رفتار سے حرکت کرنے والے اجسام کی حرکت کے مطالعہ کے لئے نیوٹن کے قوانین حرکت استعمال کئے جاتے ہیں مگر اجسام کا سائز اگر ایٹم سے چھوٹا ہو تو نیوٹن کے قوانین درست نتائج نہیں دیتے اور ہمیں کوانٹم مکینکس کا استعمال کرنا پرٹا ہے۔ اس طرح تیز طرح رفتار ذرات کی حرکت کے مطالعہ کے لئے بھی سپیشل تھیوری آف ریلیٹویٹی کا سہارا لینا پرٹا ہے۔ کوانٹم مکینکس میں ذرات کی حرکت کے مطالعہ کے لیے شروڈنگر کی مساوات (Schrodinger equation) کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ مساوات صرف ایسے ذرات کے لیے ہی استعمال کی جا سکتی ہے جن کی رفتار روشنی کی رفتار سے کافی کم ہو۔ ایسے ذرات جو روشنی کی رفتار کے قریب قریب سفر کرتے ہیں یعنی ریلیٹیوسٹک پارٹیکلز (relativistic particles) انکی حرکت کے مطالعہ کے لیے آسکر کلائن اور والٹرگورڈن نے ایک نئی مساوات پیش کی جسے انکے نام کی مناسبت سے کلائن گورڈن (Klein-Gordon) مساوات کہا جاتا ہے۔ اگرچہ شروڈنگر نے بھی پہلے یہی مساوات اخذ کی تھی مگر چونکہ یہ مساوات جب ذرات کے لیے استعمال کی جاتی ہے تو منفی پروبیبلٹی (negative probability) کا سبب بنتی ہے اس لیے شروڈنگر نے اس مساوات کو رد کر دیا تھا۔ ریلیٹیوسٹک پارٹیکلز کے مطالعہ کے لیے پاؤل ڈراک (Paul Dirac ) نے کلائن گورڈن مساوات کو فیکٹرائز کر کے ایک نئی مساوات تشکیل دی جسے ڈراک ایکویشن (Dirac equation) کہا جاتا ہے۔
ڈراک ایکویشن کو جب حل کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ ہاف سپن ذرات جنہیں فرمیون بھی کہتے ہیں پر ہی لاگو ہوتی ہے اسی طرح کلائن گورڈن مساوات سپن زیرو والے ذرات جنہیں سکلیلر بوسون کہا جاتا ہے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ آپ کے ذہن میں شائد یہ سوال پیدا ہوا ہو گا کہ اگر اس مساوات کو پہلے رد کر دیا گیا تھا تو اب اس مساوات کو کیوں استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ منفی پروبیبلٹی والا مسلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اسے ذرات کے اوپر لاگو کیا جائے مگر جدید نکتہ نظر کے مطابق ذرات کی بجائے فیلڈ کا تصور استعمال کیا جاتا ہے جسے کوانٹائز کر کے ذرات تخلیق کئے جاتے ہیں تو جب کلائن گورڈن مساوات کو فیلڈز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو منفی پروبیبلٹی کا مسلہ پیدا نہیں ہوتا۔ تیسری قسم کے ذرات جن سے ہمیں واسطہ پڑ سکتا ہے وہ ہیں سپن ون ذرات یا ویکٹر بوسونز۔ انکے مطالعہ کے لیے جو مساواتیں استعمال کی جاتی ہیں انہیں مجموعی طور پر پروکا مساواتیں (Proca equations)کہا جاتا ہے جن میں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ (جس کا فورس کیرئیر فوٹان ہے) کے لیے میکسویل کی مساواتوں کا کوانٹم مکینیکل ورژن استعمال کیا جاتا ہے اور ویک فورس (جس کے فورس کیرئیرز تین ذرات W+,W-,Z بوسونز ہیں) اور سٹرونگ فورس (جس کے فورس کیرئیرز کو گلوآن کہا جاتا ہے) کے لیے استعمال کی جانے والی مساواتیں بھی کچھ تکنیکی فرق کے علاوہ میکسویل مساواتوں جیسے خدوخال ہی رکھتی ہیں۔
اب تک ہم نے دیکھا کہ سپن ہاف ذرات کے مطالعہ کے لیے ڈراک ایکویشن، سپن زیرو (spin0) ذرات کے لیے کلائن گورڈن ایکویشن اور سپن ون ذرات کے لیے پروکا ایکویشنز موجود ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسا اصول موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے تمام مساواتوں کو ایک لڑی میں پرویا جا سکے؟

 

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 7 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 9 – ڈاکٹر محمد رحمان