in ,

کائنات – قسط نمبر 7 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 7
تحریر : ڈاکٹر محمد رحمان

اینٹی میٹر۔
عام طور پر جب اینٹی میٹر کا ذکر آتا ہے تو الیکٹران پوزیٹران کی مثال دی جاتی ہے جس سے عام تاثر یہ نکلتا ہے کہ ایسا ذرہ جس کا الیکٹرک چارج الیکٹران کے مخالف ہو اور کمیت الیکٹران جتنی ہو وہ الیکٹران کا اینٹی پارٹیکل کہلائے گا جسے پوزیٹران کہتےہیں۔یہ بات ہے تو سچ مگر آدھا سچ ہے۔ ایسے ذرات جن پر الیکٹرک چارج نہیں ہوتا جیسے نیوٹرینو اور نیوٹران کیا ان ذرات کے اینٹی پارٹیکل موجود ہوں گے؟ جی ہاں انکے بھی اینٹی پارٹیکل موجود ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر نیوٹرینو کے اینٹی پارٹیکل پر چارج تو صفر ہی ہے مگر اس کا لیپٹان نمبر نیوٹرینو کے لیپٹان نمبر کے مخالف ہوتا ہے۔ اسی طرح پوزیٹران کا صرف الیکٹرک چارج ہی الیکٹران کے مخالف نہیں ہوتا بلکہ اس کا لیپٹان نمبر بھی الیکٹران کے مخالف ہوتا ہے۔اصولی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر ذرے کا اینٹی ذرہ موجود ہے مگر کچھ ذرات ایسے ہیں جو اپنے ہی اینٹی ذرے کے برابر ہوتے ہیں جیسے کہ فوٹان۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کے اینٹی پارٹیکلز کی کمیت ہمیشہ مثبت ہی ہوتی ہے اور انکے ساتھ منفی کمیت یا اینٹی گریویٹی جیسے تصورات منسوب کرنا بے معنی ہے۔
کائنات میں ہر طرف ہمیں مادہ نظر آتا ہے مگر اینٹی میٹر موجود نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دیئے بغیر بگ بینگ کا نظریہ نامکمل رہے گا۔ اس طرح کے اور بہت سے سوالات ہیں جو ہمیں ان ذرات کے مطالعہ پر مجبور کرتے ہیں لیکن ان ذرات کے ساتھ تجربات کرنا ایک مہنگا سودا ہے۔ چند ملی گرام اینٹی میٹر بنانے پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں اور اگر آپ بنا بھی لیں تو بھی یہ ذرات پیدا ہوتے ہی مادہ کے ساتھ تعامل کر کے فنا ہو جاتے ہیں۔اس فنا ہونے کے دوران اتنی توانائی خارج ہوتی ہے کہ اینٹی میٹر کے پانچ چھ سو گرام ہی اس پوری دنیا کو تباہ کرنے کے لئے کافی رہیں گے۔
اچھی بات یہ ہے کہ یہ ساری مشکلات ہمیں ان ذرات کے مطالعہ سے باز نہیں رکھ سکیں۔ نیچے تصویر میں آپ کو میرے ہاتھ میں ایک جار نظرآ رہا ہو گا ۔ اس میں چمکدار چیز اینٹی میٹر ہے اور اس کو اس جار میں مقناطیسی خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے ایک جگہ پر اس طرح محدود کر دیا گیا ہے کہ یہ مادہ کے ساتھ رابطہ نہ کرسکے۔ اسی طرح کا ایک جار فلم اینجلز اینڈ ڈیمنز میں بھی دکھایا گیا ہے جسے ولن جینیوا میں موجود ایک لیبارٹری سرن سے اس نیت سے چوری کرتا ہے کہ وہ اس جار کے ذریعے دنیا تباہ کر دے گا۔ فلم میں اینٹی میٹر کو استعمال کرکے دنیا تباہ کرنے کا تصور اگرچہ ٹھیک ہے مگر جارمیں اینٹی میٹر کی مقدار بہت ہی کم ہے اس لئے فکر نہ کریں اگر یہ جار سرن سے چوری ہو بھی جائے تو کوئی خاص دھماکہ نہیں ہو گا۔
لیبارٹری میں ہم نہ صرف اینٹی پارٹیکل بنانے میں کا میاب ہو چکے ہیں بلکہ اینٹی پروٹان اور پوزیٹران کو ملا کر اینٹی ایٹم بنانے کا بھی کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔ سرن میں ایک لو انرجی اینٹی پروٹان رنگ تشکیل دیا گیا ہے ۔یہ ایک دائروی ٹیوب ہے جس کے اندر خلا ہے اس دائروی ٹیوب میں اینٹی پروٹان کی حرکت کو مقناطیس کے ساتھ اس طرح قابو کیا جاتا ہے کہ اینٹی پروٹان ٹیوب کی دیواروں سے نہ ٹکرا سکیں۔ان اینٹی پروٹانز کو استعمال کرتے ہوئے ہوئے انیس سو پچانوے میں پروفیسر والٹر اؤلرٹ کی ٹیم نے اینٹی ہائڈروجن بنانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ اصولی طور پر تجربہ گاہ میں تمام عناصر کے اینٹی عناصر تشکیل دئیے جا سکتے ہیں مگر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے لئے کتنے وسائل صرف کرنا پڑیں گے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 6 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 8 – ڈاکٹر محمد رحمان