in ,

کائنات – قسط نمبر 6 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 6
تحریر:-ڈاکٹر محمد رحمان

الیکٹرک چارج۔
الیکٹرک چارج کا تصور چونکہ بہت چھو ٹی جماعتوں سے ہی درسی کتب کا حصہ ہوتا ہے اور قسط نمبر 3 میں اس خصوصیت کے بارے میں ہم دیکھ بھی چکے ہیں اس لیے اس خصوصیت کی تفیصیلات میں جا کر آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔

سپن اینگولر مومینٹم۔
ذرات کی سپن وہ پہلی خصوصیت ہے جس کی بنیاد پر بنیادی ذرات کی درجہ بندی کی جاتی ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ بنیادی ذرات کی سپن سے کیا مراد ہے۔سپن کا لفظ آتے ہی ذہن میں آتا ہے کہ بنیادی ذرات شاید اپنے محور (axes) کے گرد گردش کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سپن اینگولر مومینٹم(جسے مختصرا سپن کہتے ہیں) حاصل کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ کیا آپ بتا سکتےہیں کہ ایسا کیوں ممکن نہیں؟ کیونکہ بنیادی ذرہ اپنی تعریف کے اعتبار سے ایک ایسا ذرہ ہے جو ایک نقطے تک محدود ہوتا ہے اور جسکی کوئی اندرونی ساخت نہیں ہوتی چنانچہ وہ گردش نہیں کرتا اور اگر گردش نہیں کرتا تو سپن اینگولر مومینٹم بھی حاصل نہیں کر سکتا۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر بنیادی ذرات کی سپن نہیں ہوتی تو ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہ سپن زیرو ذرہ ہے یا سپن ہاف ذرہ ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بنیادی ذرات کی ایک اندرونی خصوصیت ہے جو حقیقت میں ہم نہیں جانتے کہ کیا ہے لیکن جب ریاضی کے اصول استعمال کرتے ہوئے اس خصوصیت کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو جو مساواتیں حاصل ہوتی ہیں وہ بالکل وہی ہوتی ہیں جو حقیقی سپن کے مطالعہ کے لیے استعمال ہوتی ہیں چنانچہ اس خصوصیت کو کوئی نیا نام دینے کی بجائے ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس ذرے کی سپن ہے وگرنہ حقیقت میں ابھی تک کی معلومات کے مطابق بنیادی ذرات کا حقیقی سپن سے کوئی لینا دینا نہیں۔

کلر چارج۔
اگلی خصوصیت جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا وہ ہے کلر چارج یا سٹرونگ چارج۔ایسے تمام ذرات جو سٹرونگ قوت کے زیر اثر تعاملات میں حصہ لیتے ہیں جیسے کے کوارکس اور گلوانز ،ان پر لازم ہے کہ وہ سٹرونگ چارج کے حامل ہوں۔آپ جانتے ہیں کہ الیکٹرک چارج دو طرح کا ہوتا ہے مثبت یا منفی مگر سٹرونگ چارج یا کلر چارج تین طرح کا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دو طرح کے چارج کو تو مثبت اور منفی چارج کہہ دیا گیا مگر تین طرح کے چارج کو کیا نام دیں یہاں سائنسدانوں نے اپنی آسانی کے لیے تین طرح کے چارج کو تین بنیادی رنگوں کے نام سے منسوب کر دیا اور کہہ دیا ایک کوارک پر تین رنگ ہو سکتے ہیں سرخ سبز اور نیلگوں۔جس طرح سپن کے بارے میں لکھتے ہوئے میں نے واضح کیا کہ ذرے کی سپن کا حقیقی سپن سے کوئی لینا دینا نہیں اسی طرح یہ کہنا کہ کوارکس اور گلوان پر رنگ ہوتا ہے کا حقیقی رنگت سے کوئی لینا دینا نہیں۔

آئسو سپن۔
اگر پروٹان اور نیوٹران کی کمیت پر نظر ڈالی جائے تو وہ تقریبا تقریبا برابر ہے پروٹان کی کمیت 938 MeV اور نیوٹران کی کمیت 939 MeV ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کمیت تو کلوگرام میں ماپی جاتی ہے اور الیکٹران وولٹ توانائی کی اکائی ہے مگر یہ یاد رہے کہ اتنی چھوٹی سطح پر چیزوں کا مطالعہ کرنے کے لئے سائنسدان تمام طبعی مقداروں کے لئے توانائی یا معکوس توانائی کی اکائی استعمال کرتے ہیں اور اس نظام کو قدرتی اکائیاں یا نیچرل یونٹس کہا جاتا ہے۔ چنانچہ کمیت اگر MeV میں ماپی جاتی ہے تو لمبائی معکوس MeV میں ۔پروٹان اور نیوٹران کی طرف واپس آتے ہیں ان دونوں ذرات میں فرق صرف چارج کا ہے اور اگر چارج کو وقتی طور پر نظر انداز کر دیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پروٹان اور نیوٹران ایک ہی ذرے نیوکلیان کی دو مختلف حالتیں ہیں جیسے الیکٹران ایک ذرہ ہے لیکن دو مختلف حالتوں سپن اپ اور سپن ڈاؤن میں پایا جاتا ہے اسی طرح نیوکلیان ایک ہی ذرہ ہے جو دو مختلف حالتوں سٹرونگ آئسو سپن اپ (پروٹان) اور سٹرونگ آئسوسپن ڈاؤن (نیوٹران ) میں پایا جاتا ہے۔ اس تصور نے بنیادی ذرات کی درجہ بندی میں اس وقت بہت مدد کی جب پروٹان اور نیوٹران کو بنیادی ذرات تصور کیا جاتا تھا اس طرح تمام ہیڈران (ایسے ذرات جو کوارکس سے مل کر بنتے ہیں مگر تب انہیں بنیادی ذرات سمجھا جاتا تھا) کی درجہ بندی سڑونگ آئسوسپن کی بنیاد پر کی جانے لگی۔ آئسو سپن کی ایک اور قسم بھی ہے جسے ویک آئسو سپن کہا جاتا ہے ۔ تمام لیپٹانز اور کوارکس ویک آئسو سپن کے حا مل ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ الیکٹران نیوٹرینو اور الیکٹران، ویک فیلڈ میں ایک ہی ذرے کی دو مختلف حالتیں ہیں جن میں الیکٹران نیوٹرینو ویک آئسو سپن اپ اور الیکٹران ویک آئسو سپن ڈاؤن کی حالت میں ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تصور کہ الیکٹران اور الیکٹران نیوٹرینو ایک ہی سکے کے دو مختلف رخ ہیں صرف تب ہی صحیح ہو گا جب ویک تعاملات کی بات کی جائے۔ دوسری مثال ہم اپ کوارک اور ڈاؤن کوارک کی لے سکتے ہیں انکو بھی ویک تعاملات کے کیس میں ایک ذرے کی دو مختلف حالتیں تصور کیا جا سکتا ہے لیکن الیکٹرومیگنیٹک تعاملات یا سٹرونگ تعاملات میں یہ الگ الگ ذرات تصور کیے جائیں گے۔ ویک آئسو سپن کے اس تصور کی وجہ سے ہی ہم کہتے ہیں کہ لیفٹ کائریلٹی (اس خصوصیت کی تعریف اگلی قسط میں آ رہی ہے) کے حامل ذرات کو ویک آئسو سپن ڈبلٹ میں رکھا جاتا ہے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 5 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 7 – ڈاکٹر محمد رحمان