in ,

کائنات – قسط نمبر 4 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 4
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان

بنیادی ذرات اور ان کی درجہ بندی۔
جیسے کہ عام زندگی میں اشیا کی درجہ بندی انکی خصوصیات کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور ایک جیسی خصوصیات والی اشیا ایک گروپ میں رکھی جاتی ہیں اس طرح بنیادی ذرات کی خصوصیات ان ذرات کی درجہ بندی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انشاللہ ان خواص کا اگلی اقساط میں ہم تفصیل سے مطالعہ کریں گے۔

بنیادی ذرات کو انکی سپن کی بنیاد پر دو گروہوں میں رکھا جاتا ہے ایسے ذرات جو عددی سپن کے حامل ہیں اور ایسے ذرات جو نصف عددی سپن کے حامل ہیں۔ عددی سپن رکھنے والے ذرات کو بوسون کہا جاتا ہے اور نصف عددی سپن والے ذرات کو فرمیون کہا جاتا ہے۔بوسون کی مزید درجہ بندی سپن زیرو بوسون (ابھی تک صرف ایک بنیادی ذرہ ایسا ہے جسکی سپن زیرو ہے اور وہ ہے ہگز بوسون) اور سپن ون بوسون کے طور پر کی جاتی ہے۔ قدرتی طور پر بنیادی قووتوں سے ملحقہ ذرات سپن ون کے حامل ہوتے ہیں سوائے گریویٹان کے جو سپن 2 کا حامل ذرہ ہے ۔ یہ ذرہ ابھی تک دریافت نہیں ہوا مگر سائنسدان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر گریویٹیشن کا کوانٹم مکینکس کی سطح پر مطالعہ کیا جائے تو گریویٹان اس قوت کےفورس کیریئر کے طور پر استعمال ہو گا۔

اب تک کی گفتگو سے ہم جان چکے ہیں کہ بنیادی قووتوں کی تعداد (ڈارک فورس کے علاوہ) چار ہے جن میں سے ایک قوت گریویٹیشن کو ہم سٹینڈرڈ ماڈل میں شامل نہیں کرتے مگر بقیہ تین قووتوں الیکٹرومیگنیٹک ویک اور سٹرونگ کا مطالعہ سٹینڈرڈ ماڈل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔یہ تمام قوتیں کائنات میں موجود کسی نظم (symmetry) کی وجہ سے وجود رکھتی ہیں اگر ریاضی (گروپ تھیوری ) کی زبان میں بات کریں تو الیکٹرومیگنیٹک فورس U(1)em سمٹری، ویک فورس SU(2)L سمٹری اور سٹرونگ فورس SU(3)c سمٹری کی وجہ سے وجود رکھتی ہے۔ U(1)em سمٹری کا ایک جنریٹر ہے جسے فوٹان کہتے ہیں اور اس پر نہ تو الیکٹرک چارج ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ماس رکھتا ہے SU(2)L سمٹری کے تین جنریٹرز (W+,W-, Z) ہیں اور جیسے کہ نام سے ظاہر ہے W+ پر مثبت الیکٹرک چارج، W- پر منفی الیکٹرک چارج اور Z بوسون پر کوئی الیکٹرک چارج نہیں مگر یہ کمیت کے حامل ذرات ہیں ۔ SU(3)c سمٹری جو کہ سٹرونگ تعاملات کے مطالعہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے کے آٹھ جنیریٹرز ہیں جنہیں گلوآنز کہتے ہیں اور یہ بھی الیکٹرک چارج نہیں رکھتے مگر یہ کلر چارج یا سٹرونگ
چارج کے حامل ذرات ہیں۔

دوسری طرف مادی ذرات میں ہمارے پاس کوارکس اور لیپٹانز ہیں۔ یہ نصف سپن کے حامل ذرات ہیں اس لیے انہیں مجموعی طور پر فرمیون کہا جاتا ہے۔ کوارکس کو مزید دو گروہ اپ ٹائپ(Up type) اور ڈاؤن ٹائپ (down type)کوارکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔اپ ٹائپ کوارکس 2e/3 جبکہ ڈاؤن ٹائپ کوارکس -1e/3 الیکٹرک چارج کے حامل ہوتے ہیں یہاں پر eسے مراد الیکٹران پر موجود الیکٹرک چارج کی مقدار ہے۔کوارکس الیکٹرک چارج کے ساتھ ساتھ ویک آئسوسپن ،ہائپر چارج اور سٹرونگ کلر چارج کے بھی حامل ذرات ہیں یہی وجہ ہے کہ کوارکس تینوں قسم کے تعاملات یعنی الیکٹرومیگنیٹک ویک اور سٹرونگ تعاملات میں حصہ لیتے ہیں۔لیپٹنانز کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایسے لیپٹانز جن کے اوپر الیکٹرک چارج ہوتا ہے ان میں الیکٹران، میوآن اور ٹاؤ اور ایسے لیپٹانز جن پر الیکٹرک چارج نہیں ہوتا ان میں نیوٹرینوز کی تینوں اقسام آتی ہیں۔ لپیپٹانز ویک آئسو سپن اور ہائپر چارج کے حامل ہوتے ہیں مگر ان پر سٹرونگ یا کلر (color) چارج نہیں ہوتا اس لیے یہ ذرات صرف ویک اور الیکٹرومیگنیٹک تعاملات میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ ان ذرات کی چیدہ چیدہ خصوصیات ہیں مگر ان خصوصیات کے علاوہ بھی چند خصوصیات ہیں جیسے کہ لیپٹان نمبر، کائریلٹی (chirality) وغیرہ وغیرہ۔

یاد رہے کہ یہ ذرات کی خصوصیات ہی ہیں جو نہ صرف انکو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں بلکہ اس بات کا تعین بھی کرتی ہیں کہ کونسا ذرہ کس طرح کے تعاملات میں حصہ لے گا۔ مثال کے طور پر الیکٹران اور میوآن کی باقی تمام خصوصیات ایک جیسی ہیں مگر ماس اور لیپٹان فیملی نمبر مختلف ہونے کی وجہ سے انکو دو مختلف ذرات تصور کیا جاتا ہے ۔بنیادی ذرات کی آخری درجہ بندی جنریشن یا فیملی میں کی جاتی ہے جیسے الیکٹران اور الیکٹران نیوٹرینو پہلی جنریشن، میوان اور میوان نیوٹرینو دوسری جنریشن، ٹاؤ اور ٹاؤ نیوٹرینو تیسری جنریشن کہلاتے ہیں۔ کوارکس میں بھی اپ اور ڈاؤن کوارک پہلی جنریشن، چارم اور سٹرینج کوارک دوسری جنریشن، ٹاپ اور باٹم کوارک تیسری جنریشن میں رکھے جاتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کوارکس اور لیپٹانز میں سے صرف اپ کوارک، ڈاؤن کوارک اور الیکٹران ہی ایسے بنیادی ذرے ہیں جو کائنات میں نظر آنے والے تمام مادے کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں باقی ذرات یا تو ہائی انرجی کاسمک شعاعوں میں ملتے ہیں یا انہیں لیبارٹری میں پیدا کیا جاتا ہے۔ (جاری)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 3 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 5 – ڈاکٹر محمد رحمان