in ,

کائنات – قسط نمبر 3 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 3
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان

سٹرونگ نیو کلیئر فورس۔
پچھلی قسط میں کی گئی گفتگو سے آپ جان چکے ہیں کہ ایک ہی طرح کے الیکٹرک چارج ایک دوسرے کو پرے دھکیلتے ہیں۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ پروٹان جو مثبت چارج کے حامل ذرات ہیں وہ ایٹم کے نیوکلئیس میں موجود ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ایٹم جن میں دو یا دو سے زیادہ پروٹان پائے جائے ہیں انکا نیو کلئیس ٹوٹ کیوں نہیں جاتا کیونکہ اس نیوکلئیس میں موجود پروٹانز کو ایک جیسے الیکٹرک چارج کی وجہ سے ایک دوسرے کو پرے دھکیلنا چاہیے۔مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ اگر ایسا ہو رہا ہوتا تو ایٹم مستحکم نہ رہتا اور آج ہم اس زمین پر موجود نہ ہوتے۔چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پروٹانز کے درمیاں کوئی ایسی قوت موجود ہے جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کے رکھے ہوئے ہے اور یہ قوت الیکٹرومیگنیٹک قوت سے زیادہ طاقتور ہے ۔ اسی لیے اس قوت کو سٹرونگ فورس کہتے ہیں۔ کشش ثقل اور الیکٹرومیگنیٹک فورس (جن کا اثر بہت زیادہ فاصلے تک ہو سکتا ہے)کے برعکس سٹرونگ قوت بہت کم فاصلے پر ہی اثر انداز ہو سکتی ہے۔دوسرا فرق اس قوت کا یہ ہے کہ سٹرونگ چارج جسے کلر چارج بھی کہتے ہیں تین طرح کا ہوتا ہے۔ زیادہ وضاحت بنیادی ذرات کے خواص والے موضوع میں آئے گی۔

ویک نیوکلئیر فورس۔
ایک اور قوت جس سے نیوکلئیس کی سطح پر ہمارا واسطہ پڑتا ہے ویک نیوکلئیر فورس ہے۔ اس قوت کی ضرورت تابکار مادوں کے مطالعہ کے دوران پیدا ہوئی ۔ہوتا یہ ہے کہ ایک تابکاری عمل کے دوران جسے بیٹا دیکے (beta decay) کے نام سے جانا جاتا ہے ایک بیٹا پارٹیکل یعنی الیکٹران کا اخراج ہوتا ہے۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ الیکٹران کا اخراج نیوکلئیس کے اندر سے ہوتا ہے۔ ایٹم کی ساخت کا معمولی علم رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ الیکٹران نیوکلئیس کے گرد گردش کرتے ہیں چنانچہ نیوکلئیس کے اندر سے الیکٹران کا خارج ہونا غیر معمولی ہے۔ حقیقت میں ہوتا یہ ہے کہ نیوکلئیس میں موجود ایک نیوٹران ٹوٹ کر ایک پروٹان ایک الیکٹران اور ایک اینٹی نیوٹرینو میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جس قوت کی وجہ سے یہ عمل وقوع پذیر ہوتا ہے اسے ویک نیوکلئیر فورس کہتے ہیں ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم اتنا یقیں سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بیٹا دیکے کا عمل ویک فورس کا مرہون منت ہے دوسرے لفظوں میں اوپر ذکر کئی گئی تین فورسز میں سے بھی توکوئی فورس اس عمل کے لئے ذمہ دار ہو سکتی ہےمگر ایسا ممکن نہیں کیونکہ اس میں ایک مادی ذرہ خود بخود ٹوٹ کر دوسرے ذرات میں تبدیل ہو رہا ہے۔ زیادہ گہرائی میں جائیں تو باقی قوتیں جو کشش یا دفع کی قوت کی حامل ہوتی ہیں ان کے برعکس ویک قوت میں کشش یا دفع کی خاصیت نہیں ہے۔ اس قوت کا اثر بہت کم فاصلے تک ہی ہوسکتا ہے اور اس کی طاقت سٹرونگ اور الیکٹرومیگنیٹک قوتوں سے کم مگر کشش ثقل سے زیادہ ہوتی ہے۔

ڈارک فورس۔
ڈارک فورس کی موجودگی کا احساس ہوئے انسان کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے ہیں اس لیے اس قوت کے بارے ہمارا علم باقی قوتوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ ابھی تک ہم بس یہ جانتے ہیں کہ کوئی قوت ایسی موجود ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ آپ میں کچھ لوگوں کے لیے کائنات کے پھیلاؤ کا تصورشاید نیا ہو۔ اس تصور کی زیادہ تفصیلات پر تو ہم بگ بینگ کے موضوع پر پہنچنے پر ہی گفتگو کریں گے ابھی بس یہ سمجھ لیں کہ زمیں کے اردگر چاروں طرف موجود کہکشائیں ہمیں زمیں سے دور بھاگتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اور نہ صرف یہ زمین سے دور بھاگ رہی ہیں بلکہ ان کی رفتار بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ہم نیوٹن کے قوانین حرکت کے تحت یہ جانتے کہ اگر کسی جسم کی حرکت کی رفتار بڑھ رہی ہو تو ایسا صرف تبھی ممکن ہے جب اس جسم پر کوئی قوت عمل کر رہی ہو۔ کیا یہ قوت اوپر بیان کی گئی چاروں قوتوں میں سے کوئی ایک ہو سکتی ہے۔ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ویک نیوکلئیر فورس اور سٹرونگ نیوکلئیر فورس بہت کم فاصلے تک اثرانداز ہو سکتی ہیں اور کہکشاؤں کا درمیانی فاصلہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بچنے والی دو قوتیں جو زیادہ فاصلے تک اثر انداز ہو سکتی ہیں میں سے ایک الیکٹرومیگنیٹک فورس صرف الیکٹرک چارج کے حامل اجسام پر ہی اثر انداز ہو تی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں پر الیکٹرک چارج نہیں ہوتا اس لیے یہ الیکٹرو میگنیٹک قوت نہیں ہو سکتی۔اب باقی بچتی ہے ایک قوت یعنی کشش ثقل مگر جیسے کہ نام سے ظاہر ہے کشش ثقل کشش کی قوت ہے اور کہکشائیں تو ایک دوسرے دور بھاگ رہی ہیں چنانچہ کشش ثقل بھی کائنات کے پھیلاؤ کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس لئے قوت کی کوئی نئی شکل ہے جس سے پہلے انسانیت کا واسطہ نہیں پڑا۔

یہاں ایک اور چیز کی وضاحت کرتا چلوں کہ یہ مشاہدہ کہ تمام کہکشائیں زمیں سے دور بھاگ رہی ہیں ہمیں یہ سوچنے پر بھی اکسا سکتا ہے کہ زمین اس کائنات کا مرکز ہے اور تمام کہکشائیں اپنے مرکز سے دور بھاگ رہی ہیں ۔کیا آپ کو یہ مفروضہ ٹھیک لگتا ہے؟ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ اس کو ٹھیک سمجھیں مگر سائنسدان ایسا نہیں سمجھتے اور وجہ اسکی یہ ہے کہ اس کائنات میں بے شمار کہکشائیں ہیں ان بے شمار کہکشاؤں میں سے ہر کہکشاں میں اربوں کھربوں ستارے ہیں اور ہر ستارے کے آگے کئی سیارے ہیں ۔ مختصر یہ کہ ان تمام اجرام فلکی کے مقابلے میں زمیں کی حیثیت اتنی بھی نہیں ہے جتنی کہ ایک ریت کے ذرے کی ریگستان میں ہوتی ہے اس لیے اس بات پر یقیں کرنا مشکل ہے کہ اتنی معمولی سی چیز کیسے پوری کائنات کے مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ زیادہ تفصیلات انشاللہ بگ بینگ تھیوری والے ٹاپک میں آئیں گی۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 2 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 4 – ڈاکٹر محمد رحمان