in ,

کائنات – قسط نمبر 2 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 2
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان

بنیادی قوّتیں۔
کتابوں میں عام طور پر چار بنیادی قوتوں کا ذکر ملتا ہے۔ حال ہی میں ایک نئی قوت کی موجودگی کا احساس ہوا ہے جسے ڈارک فورس کہتے ہیں۔پوسٹ کو طوالت سے بچانے کے لیے آج صرف ہم دو قوتوں کے بارے میں دیکھیں گے۔ بقیہ تین فورسز کے بارے میں اگلی قسط میں گفتگو کریں گے۔
کشش ثقل
یہ سوال کے چیزیں بلندی سے زمیں کی طرف کیوں گرتی ہیں شروع سے ہی انسان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یونانیوں کے دور میں زمیں کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا چنانچہ ارسطو نے اس سوال کا جواب اس طرح دینے کی کوشش کی کہ کائنات میں تمام اشیا اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہیں یعنی تمام اشیا کا ایک قدرتی مقام ہے جسے وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں بشرط یہ کہ وہ ایسا کرنے میں آزاد ہوں۔ زمیں کے اجزا کے لیے یہ قدرتی مقام زمیں کا مرکز ہے اس لیے تمام اشیا زمیں کے مرکز کی طرف جانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ارسطو کی اس وضاحت کے کئی سو سال بعد نیوٹن نے بھی اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جو نیوٹن کا قانون تجاذب کہلایا جس کے مطابق کائنات میں موجود تما م مادی اشیا ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور کشش کی یہ قوت ان اشیا میں موجود مادے کی مقدار کے حاصل ضرب کے براہ راست متناسب اور انکے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہے ۔تقریبا دو سو سال تک کشش ثقل کا مطالعہ ہم اسی قانون کے تحت کرتے رہے جس کے بعد آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت عمومی پیش کیا۔ کشش ثقل کے مطالعہ کے لیے موجودہ نظریہ ، نظریہ اضافیت عمومی ہے جس کی پیشین گوئیاں ان سو سالوں کے دوران وقفے وقفے سے ثابت ہوتی رہی ہیں چنانچہ نظریہ اضافیت عمومی ایک تسلیم شدہ حقیقت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ یہ نظریہ کائنات کی موجودہ حالت کی وضاحت کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے مطابق مادی اجسام سپیس ٹائم میں خم کا باعث بنتے ہیں اور نتیجتا سپیس ٹائم کا خم ان اجسام کے درمیاں کشش کی قوت کا باعث بنتا ہے ۔
الیکٹرومیگنیٹک فورس
کشش ثقل کے بعد دوسری قوت جس سے انسان کا واسطہ پڑا الیکٹرک فورس کہلاتی ہے۔ اس قوت کی موجودگی کی سب سے سادہ مثال کنگھے اور کاغذ کے ٹکروں سے دی جاتی ہے۔ اگر آپ بالوں میں کنگھی کرنے کے بعد وہ کنگھی کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کے پاس لائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ ٹکرے اڑ کر کنگھی سے چمٹ جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہےاسکی سادہ سی وضاحت یہ ہے کہ کاغذ اور کنگھی کمیت کی طرح کی ایک خا صیت رکھتے ہیں جو ان میں کشش کی قوت پیدا کر دیتی ہے۔یہ خاصیت الیکٹرک چارج کہلاتی ہے۔ مزید مطالعہ سے پتہ چلا کہ الیکٹرک چارج دو طرح کا ہوتا ہے ایک قسم کو مثبت چارج اور دوسری قسم کو منفی چارج کا نام دیا گیا۔ ایک جیسے الیکٹرک چارج کی حامل اشیا ایک دوسرے کو پرے دھکیلتی ہیں جبکہ دو مختلف اقسام کے چارج کی حامل اشیا ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ ادھر بھی ان اجسام کے مابین قوت ان پر موجود الیکٹرک چارج کے حاصل ضرب کے براہ راست متناسب اور انکے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ الیکٹرک چارچز کے درمیان قوت کا یہ قانون کولمب (Coulomb )نے پیش کیا۔ الیکٹرک فورس کا اگر کشش ثقل سے موازنہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ الیکٹرک فورس کشش ثقل کے مقابلے زیادہ طاقتور ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ اوپر دی گئی کنگھے اور کاغذ کی مثال سے ہی لگا سکتے ہیں کہ کنگھے کی الیکٹرک فورس پوری کی پوری زمیں کی کشش ثقل پر حاوی ہو کر کاغذ کے ٹکروں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
تیسری قوت مقناطیسی قوت ہے جس سے ہم میں سے اکثر بچپن سے ہی واقف ہو جاتے ہیں بلکہ مجھے امید ہے کہ میری طرح آپ نے بھی بچپن میں مقناطیس کے ایک ٹکرے کو کھلونا کار سے باندھ کر دوسرے ٹکرے کو کار کے پاس لیجا کر کار چلانے کا تجربہ ضرور کیا ہو گا۔ مقناطیس کی خصوصیات پہ اگر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ الیکٹرک چارج کی طرح مقناطیس بھی کسی طرح کے چارج کا حامل ہوتا ہے ۔ اسے میگنیٹک چارج کہا جاتا ہے۔ زیادہ گہرائی میں جائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ الیکٹرک چارج ہی میگنیٹک چارج کا سبب بنتا ہے۔ یعنی الیکٹرک چارج ساکن ہو تو صرف الیکٹرک خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جبکہ اگر الیکٹرک چارج حرکت میں ہو تو الیکٹرک کے ساتھ ساتھ میگنیٹک خصوصیات بھی پیدا ہو جاتی ہیں ۔ الیکٹرک اور میگنیٹک خصوصیات کے مطالعہ کے لیے ایک سائنسدان گاز (Gauss )نے دو قوانین پیش کیے ایک الیکٹرک چارجز کے لیے جو کولمب کے قانون کی ہی ایک شکل ہے جبکہ دوسرا میگنیٹک چارجز کے مطالعہ کے لیے۔ اسی طرح فیریڈے (Faraday )نے ایک قانون اور ایمپیر (Ampere )نے ایک قانون پیش کیا ۔ ایمپیر کے قانون کے ساتھ میکس ویل نے تھوڑی سی چھیڑ چھاڑ کر کے ایک نئی شکل میں پیش کیا جسے اب ایمپیر میکس ویل کا قانون کہتے ہیں۔ یہ چار قوانین الیکٹرک اور میگنیٹک فورس کے مطالعہ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی چار قوانین کو ملا کر میکس ویل نے چار مساواتیں پیش کی جنہیں میکس ویل کی مساواتیں کہا جاتا ہے۔ ان مساواتوں کو حل کرنے کے بعد ہمیں یہ پتہ چلا کہ الیکٹرک اور میگنیٹک قووتیں دو الگ الگ قووتیں نہیں بلکہ ایک ہی قوت کی دو مختلف شکلیں ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ ان مساواتوں کے حل سے ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ الیکٹرومیگنیٹک شعاعوں کی رفتار خلا میں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ روشنی بھی چونکہ الیکٹرومیگنیٹک شعاعوں پر مشتمل ہوتی ہے چنانچہ روشنی کہ رفتار بھی ایک مستقل مقدار ہے جو تبدیل نہیں ہوتی۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہی وہ نکتہ تھا جس نے آئن سٹائن کو یہ سوچنے پرمجبور کیا کہ یا تو نیوٹن کے قوانین حرکت میں کوئی خرابی ہے یامیکس ویل کی مساواتوں میں کیونکہ نیوٹن کے قوانین کے مطابق روشنی کی رفتار مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہو سکتی ہے اگر وہ ایک دوسرے کے حساب سے حرکت کر رہے ہوں۔ چنانچہ اس مسلے کو حل کرنے کے لیے آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت خصوصی پیش کیا۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 1 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 3 – ڈاکٹر محمد رحمان