in , ,

کائنات – قسط نمبر 10 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 10
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان

بنیادی ذرات تعاملات میں کیسے حصہ لیتے ہیں

اب تک پچھلی اقساط میں ہم بنیادی ذرات اور ان کے خواص کو بہت تفصیل سے دیکھ چکے ہیں۔ آج کی قسط اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ پچھلی اقساط میں جو گفتگو کی گئی وہ نیچے بیان کئے گئے حقائق کو سمجھنے کے لیے میدان تیار کیا جا رہا تھا۔

اب جب یہ جان چکے ہیں کہ کائنات میں کس طرح کے ذرات موجود ہیں اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ وہ آپس میں کس طرح تعامل کرتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ریاضی کی زبان استعمال کیے بغیر دینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن پھر بھی ایک مثال کے ذریعے اس جواب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یاد رہے کہ مثالیں صرف سمجھانے کے لیے ہوتی ہیں اور اکثر و اوقات وہ بات کا صحیح رخ واضح نہیں کر پاتیں خاص طور اگر وہ سائنسی موضوع کے بارے میں ہوں تو۔ ویسے بھی اگر مثال سے بالکل واضح مطلب بیان کیا جا سکتا تو ریاضی کی پیچیدہ مساواتیں اخذ کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی چنانچہ نیچے پیش کی گئی مثال اس موضوع پر حرف آخر نہیں ہے اور صرف میری ناقص سمجھ بوجھ کا نتیجہ ہے جو مکمل یا جزوی طور پر غلط بھی ہو سکتی ہے۔اب آتے ہیں سوال کی طرف تو جیسے پہلے بیان کیا گیا کہ یہ ذرات کی بنیادی خصوصیات ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ کونسا ذرہ کس طرح تعامل کرے گا۔سب سے پہلے ایسے مادی ذرے سے شروعات کرتے ہیں جو سب سے سادہ یعنی باقی سب ذرات سے کم خصوصیات کا حامل ہو۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کونسا ذرہ یا ذرات ہیں؟ جی ہاں نیوٹرینوز۔ یہ نہ تو الیکٹرک چارج کے حامل ہیں نہ سٹرونگ چارج یا کلر چارج کے، اور اگر انکا ماس بھی وقتی طور پر صفر فرض کر لیں جو کہ ویسے بھی بہت کم ہوتا ہے تو صرف کائریلیٹی، لیپٹان نمبر اور آئسوسپن یا ویک ہائپر چارج کی خصوصیات ہی رہ جائیں گی۔ اب یہ خصوصیات واضح کرتی ہیں کہ نیوٹرینو نہ تو الیکٹرومیگنیٹک تعامل اور نہ ہی سٹرونگ تعامل میں حصہ لے سکتا ہے چنانچہ یہ صرف ویک تعاملات میں ہی حصہ لے گا۔ اب یہ ویک تعامل کیسے کرتا ہے اس کے لیے آپ کو ایک فرضی دنیا میں جانا پڑے گا۔ اس فرضی دنیا کو تکنیکی زبان میں انٹرنل سپیس کہا جاتا ہے اور فرضی کا لفظ میں اس لیے استعمال کر رہا ہوں کیونکہ اس دنیا کا ہماری فزیکل دنیا سے کوئی تعلق نہیں بس یہ سمجھ لیں کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں ویک فیلڈ موجود ہے۔ ایک نیوٹرینو چلتے چلاتے اس دنیا میں آ دھمکا ہے اور ایک الیکٹران ادھر موجود ہے جس سے وہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ اگر دو ذرات آپس میں بات کرنا چاہتے ہیں تو ایسا صرف W بوسونز کی موجودگی میں ہی کر سکتے ہیں براہ راست بات کرنے کی اجازت نہیں۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اگر کوئی W بوسونز کے ذریعے سے بات کرنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ویک آئسوسپن اور لیفٹ کائریلٹی ہونی چاہیئے، الیکٹرانز اور نیوٹرینو کے پاس چونکہ یہ خصوصیات موجود ہیں اس لیے نیوٹرینو اور الیکٹران جب ایک نقطے پر اکٹھا ہوتے تو فوراً کہیں سے کوئی W بوسون منظر عام پر آ جاتا ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے موبائل کی دکان میں ایک شخص اپنا موبائل بیچنا چاہتا ہے اور کوئی دوسرا شخص وہی موبائل خریدنا چاہتا ہے دونوں براہِ راست بات کرنا شروع کرتے ہیں تو دکان دار آ دھمکتا ہے کہ یہ ڈیل میری موجودگی میں ہی ہو گی۔ وہ نقطہ جہاں الیکٹران، نیوٹرینو اور W بوسون اکٹھا ہوتے ہیں اسے ورٹیکس کہتے ہیں۔ تمام تعاملات کو بنیادی سطح پر اسی طرح بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً میوآن ایک ایسا ذرہ ہے جو بہت کم عرصے کے لیے زندہ رہتا ہے یہ پیدا ہونے کے کچھ عرصے بعد ایک میوآن نیوٹرینو اور W بوسون میں تبدیل ہوتا ہے اور یہ W بوسون پھر ایک الیکٹران اور الیکٹرن نیوٹرینو میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ توانائی کی ایک خاص حد سے اوپر W بوسونز کمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ مگر جیسے ہی توانائی اس حد سے کم ہوتی ہے تو ان بوسونز کو کمیت مل جاتی ہے مگر اس کے نتیجے میں وہ نظم ٹوٹ جاتا ہے جسے وہ پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔

اگلی مثال میں ہم الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی دنیا میں چلتے ہیں۔ اس دنیا میں پیغام رسانی کا کام فوٹان سر انجام دیتے ہیں مگر فوٹانز سے بات کرنے کے لیے شرط ہے کہ آپ کے پاس الیکٹرک چارج ہونا چاہیئے چنانچہ نیوٹرینو اگر اس دنیا میں آ بھی جائے تو وہ یہاں کسی سے بات نہیں کر پائے گا کیونکہ وہ اس دنیا کی زبان یعنی الیکٹرک چارج سے واقف نہیں مگر الیکٹران یہاں با آسانی بات کر سکتا ہے۔ اور سب سے اہم بات اس دنیا کی یہ ہے کہ فوٹان یہاں چونکہ بات چیت کا ماحول قائم کرتے ہیں یعنی الیکٹرو میگنیٹک سمٹری جنریٹ یا پیدا کرتے ہیں تو اس عہدے کو حاصل کرنے کے لیے انہیں یہ قربانی دینا پڑتی ہے کہ وہ ماس کے حامل نہیں ہو سکتے اور اگر کسی طرح بالفرض وہ ماس حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس دنیا میں نظم قائم نہیں رہے گا جس میں وہ پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں۔ ویک فیلڈ کی صورت میں قدرت یہ چاہ رہی تھی کہ W بوسونز کمیت حاصل کرلیں چاہے ویک سمٹری قائم رہے نہ رہے مگر الیکٹرومیگنیٹک اور سٹرونگ فیلڈ کے کیس میں کمیت سے زیادہ اس نظم یا سمٹری کا قائم رہنا ضروری ہے اس لئے فوٹان اور گلوآنز کمیت کے حامل نہیں ہوتے۔ آب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس نظم کا قائم رہنا کیوں ضروری ہے۔ تو جیسے ہم پچھلی قسط میں پڑھ چکے کہ الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کا نظم اگر قائم نہیں رہے گا تو الیکٹرک چارج کی بقا کا قانون نہیں رہے گا اور اگر یہ قانون نہیں رہے گا تو ایک ذرے کے دوسرے ذرے میں تبدیل ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ قدرت نے ذرات میں یہ چاہت رکھی ہے کہ وہ تیز سے تیز رفتار یعنی سپیڈ آف لائٹ سے حرکت کریں ۔ اور ایسا کرنے میں ذرات کی کمیت انکے آڑے آتی ہے۔ اس لئے تمام ذرات کم سے کم کمیت والے ذرات میں تقسیم ہونا چاہتے ہیں۔ ایک ٹاؤ ایک میوآن اور دو نیوٹرینوزمیں تبدیل ہو جاتا ہے ایک میوآن ایک الیکٹران اور دو نیوٹرینوز میں تبدیل ہو جاتا ہے مگر الیکٹران اپنے سے کم کمیت والے اجسام میں تبدیل نہیں ہوتا اسے ایسا کرنے سے کچھ قوانین روکتے ہیں اور یہ قوانین کسی نظم کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ قوانین نہ ہوتے تو الیکٹران بھی تقسیم ہوتا ہوتا صرف توانائی کا پیکٹ رہ جاتا۔ صرف الیکٹران ہی نہیں سارے مادی ذرات تقسیم ہوچکے ہوتے اور کائنات میں کوئی مادہ موجود نہ رہتا۔
ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ تین بنیادی قوتیں جن کا ہم سٹینڈرڈ ماڈل میں مطالعہ کر سکتے ہیں سمٹری یا گیج انویرئنس کی وجہ سے تشکیل پاتی ہیں جیسے الیکٹرومیگنیٹک فورس U(1)em سمٹری، ویک فورس SU(2)L سمٹری اور سٹرونگ فورس SU(3)c سمٹری کی وجہ سے۔ اس سمٹری یعنی گیج انویرئنس کا تقاضہ یہ ہے کہ اس سمٹری کے جنریٹرز جو یہاں پیغام رسانی کا کام سر انجام دیتے ہیں وہ ماس یا کمیت کے حامل نہیں ہو سکتے اور اگر تجرباتی طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ سمٹری کے جنریٹرز کمیت یا ماس کے حامل ہیں تو سمٹری یعنی گیج انویرئنس قائم نہیں رہ سکتی۔

اب گیج انویرئنس کے اصول کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ ڈراک لیگرانجیئن کی کائنیٹک ٹرم میں اوپر ذکر کیے گئے تینوں گروپس کے جنریٹرز متعارف کروا دیے جاتے ہیں اور پروکا لیگرانجیئن کی کائنیٹک ٹرمز متعارف کروا دی جاتی ہیں۔ اس طرح جو مساوات بنتی ہے اسے سٹینڈرڈ ماڈل لیگرانجیئن (Lagrangian) کی ابتدائی شکل کہہ سکتے ہیں مگر یہ ابھی نا مکمل ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ ایسی ٹرمز موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ فوٹان نیوٹرینوز کے ساتھ تعامل کرتے ہیں جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ فوٹانز کے ساتھ صرف وہی ذرات تعامل کر سکتے ہیں جن کے اوپر الیکٹرک چارج ہوتا ہے جبکہ نیوٹرینوز کے پاس الیکٹرک چارج نہیں ہوتا۔ اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ سٹینڈرڈ ماڈل میں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی بجائے ہائپر چارج فیلڈ حصہ لیتی ہے۔ اور ہائپر چارج فیلڈ اور ویک فیلڈ کی شراکت سے سپانٹینئس سمٹری بریکنگ کے بعد الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ جنم لیتی ہے۔ یعنی الیکٹرومیگنیٹک فورس اور ویک فورس دو الگ الگ قوتیں نہیں بلکہ ایک ہی قوت کے دو مختلف پہلو ہیں۔ (جاری)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 9 – ڈاکٹر محمد رحمان

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے