in ,

کائنات – قسط نمبر 1 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات
قسط نمبر 1
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ وہ کونسا ایسا سوال ہے جس کے بارے میں انسان شروع دن سے متجسس رہا ہے اور جس کا جواب علم کے بیشتر حصے کا احاطہ کر سکتا ہے تو آپ میں سے اکثر مجھ سےاتفاق کریں گے کہ وہ سوال یہ ہے کہ” یہ کائنات کیسے کام کرتی ہے “ ۔ اگرچہ اس سوال کاجواب وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کر کے ملتا جا رہا ہے مگر شائد حتمی جواب کے لیے ابھی بھی کئی صدیاں درکار ہوں یا شائد اس سوال کا حتمی جواب انسان کے بس کی بات ہی نہ ہو ۔مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اس سوال کے جواب کے لیے جتنی پیش رفت بیسویں صدی عیسوی میں ہوئی اس سے پہلے پوری تاریخ انسانی میں نہیں ہوئی ۔اگرچہ پیش رفت کا یہ دعوی اپنی وسعت میں کافی بڑا ہے مگر جیسے جیسے آپ آگے پڑھتے جائیں گے مجھے امید ہے آپ اس دعوے سے متفق ہوتے جائیں گے۔ اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ یہ ساری پیش رفت کیونکر ممکن ہو سکی تو اس کا سادہ سا جواب ہے یکجائی یعنی یونیفیکیشن۔ اس جواب کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ کسی چیز کو سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس چیز کے بنیادی اجزا معلوم کریں اور یہ پتہ لگائیں اور وہ کس وجہ سے اکھٹے ہیں۔ مثال کے طوراگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ فلاں عمارت کیسے تعمیر کی گئی تو پہلا مرحلہ یہ ہو گا کہ اس عمارت کے بنیادی اجزا معلوم کیے جائیں جب آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ عمارت اینٹ سیمنٹ اور ریت وغیرہ سے مل کر بنی ہے تو آپ وہ طریقہ تلاش کریں گے جس کے تحت وہ آپس میں ملتے ہیں۔ یہ مرحلہ سر کرنے کے بعد ایک تو کیا آپ اس جیسی کئی عمارتیں تعمیر کر سکتے ہیں۔کائنات کو سمجھنے کا پہلا مرحلہ بھی یہی ہے کہ اس کائنات کے بنیادی اجزا کے بارے میں جانا جائے اور بنیادی اجزا کے بارے میں جاننے کے بعد وہ اصول جاننا ضروری ہیں جن کے تحت وہ آپس میں ملتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج سے کئی سو سال پہلے یونانیوں نے یہ تصور پیش کیا کہ کائنات چار بنیادی اجزا ہوا، پانی، آگ اور مٹی سے مل کر بنی ہے ۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ تصور کیا جانے لگا کہ تمام اشیا ایک بنیادی جز ایٹم سے مل کر بنی ہیں۔ یہ تصور کئی صدیوں تک ایسے ہی چلتا رہا مگر پھر انیسویں صدی کے اختتام پر الیکٹران کی دریافت اس تصور میں تبدیلی کا پیش خیمہ بنی اور پتہ چلا کہ ایٹم ایک بنیادی ذرہ نہیں بلکہ دوسرے ذرات جیسے کہ الیکٹران پروٹان اور نیوٹران سے مل کر بنا ہے۔ بیسویں صدی میں تو جیسے بنیادی ذرات کا سیلاب سا آ گیا۔پروٹان اور نیوٹران جیسے کئی بنیادی ذرات جنہیں ہیڈرانز (Hadrons) کہا جاتا ہے دریافت کر لئے گئے۔یاد رہے کہ ہیڈرانز کو مزید دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں بیریان اور میزون کہتےہیں۔ پہلے ریت یہ تھی کہ اگر کوئی بنیادی ذرہ دریافت کرتا تو نوبل انعام کا حق دار ٹھہرتا مگر پھر صورتحال یہ ہوئی کہ سائنسدانوں نے از راہ تفنن یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب اگر کوئی بنیادی ذرہ دریافت کرے تو اسے سزا دی جائے۔یہ تو ایک مذاق کی بات تھی مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بنیادی ذرات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سائنسدانوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جیسے جیسے یہ تعداد بڑھتی جا رہی تھی بنیادی ذرات کو ایک لڑی میں پرونا مشکل ہوتا جا رہا تھااس مرحلے پر قدرت انسان پر پھر مہربان ہوئی اور یہ پتہ چلا کہ نیوٹران اور پروٹان جیسے ذرات بنیادی نہیں بلکہ دوسرے ذرات جنہیں کوارک کہا جاتا ہے سے مل کر بنے ہیں۔قدرت اگر یہ مہربانی نہ کرتی تو بیریان (Baryon) اور میزون (Meson) جنکی مجموعی تعداد اس وقت ایک ہزار سے زیادہ ہے بنیادی ذرات کی فہرست میں ہوتےاور بنیادی ذرات کی درجہ بندی مشکل ترین ٹھہرتی ۔ آپ اندازہ کر سکتے کہ کسی چیز کے بنیادی اجزا کی تعداد اگر کم ہو تو اس چیز کی تفصیلات جاننا زیادہ آسان ہوتا ہے چنانچہ کوارکس کا تصور آنے کے بعد بنیادی اجزا کی تعداد ایک بار پھر مناسب حد تک کم ہو گئی اور کائنات کے مطالعہ میں آسانی کی امید پیدا ہوئی۔
ہم جانتے ہیں کہ بنیادی ذرات کسی نہ کسی قوت کے زیر اثر آپس میں تعامل کرتے ہیں۔ اب تک معلوم بنیادی قووتوں کی تعداد (تاریک قوت کو نکال کر) چار ہے۔ ان میں سے ایک قوت جس کا نام گریویٹیشن ہے کا مطالعہ کوانٹم مکینکس کے اصولوں کے مطابق کرنا مشکل ہے اس لیے اس قوت کو ایک الگ نظریے کے تحت سمجھا جاتا ہے جسے جنرل تھیوری آف ریلیٹویٹی کہتے ہیں مگر بقیہ تینوں قووتوں کا کوانٹم میکنکس کے اصولوں کے تحت نہ صرف مطالعہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ہم ایسا نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو ان تین قووتوں کو ایک ہی قوت ثابت کرتا ہے۔ اس نظرئیے کو سٹینڈرڈ ماڈل کا نام دیا گیا ہے اور اس کی متعدد پیشین گوئیاں تجرباتی طور پر ثابت ہو چکی ہیں ۔اب سائنسدان ایک ایسے نظرئیے کے لئے تگ و دو کر رہے جو چو تھی بنیادی قوت گریویٹیشن کو بھی بقیہ تین قووتوں کے ساتھ یکجا کر سکے۔ اگرچہ اس ضمن میں بہترین نظریات تشکیل دیئے جا چکے ہیں جن میں سے کچھ نہ صرف چاروں قووتوں کو یکجا کر تے ہیں بلکہ بنیادی مادی ذرات کو بھی ایک ذرے (سٹرنگ کا لفظ زیادہ مناسب رہے گا) کی مختلف قسمیں گردانتے ہیں۔ ان نظریات کی تجرباتی تصدیق کے لئے درکار وسائل فی الحال نوع انسانی کی دسترس سے باہر ہیں اس لیے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن سٹینڈرڈ ماڈل کی کامیابی اس بات کی ضامن ضرور ہے کہ کائنات کو سمجھنے کے سفر میں ہم صحیح رستے پر گامزن ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کی تسخیر کا یہ سلسلہ انشاللہ جاری رہے گا اور ہر ہفتے ایک ایک قسط پیش کی جائے گی۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟

کائنات – قسط نمبر 2 – ڈاکٹر محمد رحمان