in ,

کائنات – قسط نمبر 5 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات۔
قسط نمبر 5
تحریر:- ڈاکٹر محمد رحمان

پچھلی اقساط میں ہم بنیادی قوّتیں، بنیادی ذرات اور ان کی درجہ بندی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم بنیادی ذرات کے خواص کے بارے میں پڑھیں گے۔ اور ان خواص میں سب سے پہلی خصوصیت جس سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے کمیت ہے۔

کمیت یا ماس۔
اگرچہ کمیت کی تعریف ہم بچپن سے ہی سیکھ لیتے مگر ایڈوانس سٹڈیز تک آتے آتے یہ اتنے مراحل سے گزرتی ہے کہ کمیت کا تصور مختلف اشخاص کے ذہنوں میں مختلف پایا جاتا ہے۔چلیں ہم اپنی پرائمری کتاب والی تعریف سے شروع کرتے ہیں کہ وہ ہر وہ چیز جو جگہ گھیرتی ہے اور وزن رکھتی ہے وہ مادہ کہلاتی ہے اور کسی جسم میں مادہ کی مقدار کمیت کہلاتی ہے۔ دسویں تک آتے آتے کمیت سے ہمارا واسطہ دو جگہوں پر پڑتا ہے ایک نیوٹن کے قوانین حرکت میں اور دوسرا قانون تجاذب میں۔ قوانین حرکت میں جس کمیت سے ہمارا واسطہ پڑتا ہےاسے ہم جمودی کمیت (inertial mass ) کہتے ہیں یعنی جمودی کمیت کسی جسم کی وہ خاصیت ہے جو اپنی حالت میں تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ قانون تجاذب میں نظر آنے والی کمیت کو ثقلی کمیت (gravitational mass ) کہتے ہیں۔یہاں تک آتے آتے امید ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھر چکا ہو گا کہ ہم کمیت کو الگ الگ کیوں تصور کر رہے ہیں، دونوں کو ایک ہی چیز کیوں تصور نہیں کر سکتے۔ کمیت تو کمیت ہوتی ہے جمودی ہو یا ثقلی۔ چونکہ بنا تجربہ کئے کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا سائنس کی رو کے منافی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کونسا ایسا تجربہ کیا جا سکتا ہے جس سے ہم جان سکیں کہ مذکورہ دونوں کمیتوں میں فرق ہے یا نہیں۔ یہ بہت آسان ہے۔ نیوٹن کے دوسرے قانون کے تحت فورس F کسی جسم کی جمودی کمیت Mi کو اس جسم کی رفتار میں تبدیلی کی شرح یعنی اسراع a سے ضرب دے کر معلوم کی جا سکتی ہے یعنی
F=Mi* a
یہاں a اس جسم کی رفتار میں تبدیلی کی شرح یعنی اسراع کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف قانون تجاذب کے مطابق دو اجسام میں کشش کی قوت ان اشیا میں موجود مادے کی مقدار کے حاصل ضرب کے براہ راست متناسب اور انکے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہے۔یعنی
F=G* mue1* mue2/r^2
یہاں mue1 پہلے جسم کی ثقلی کمیت اور mue2 دوسرے جسم کی ثقلی کمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اب فرض کریں mue1 کمیت والا جسم فضا سے زمین کی طرف آ رہا ہے اور زمین کی کمیت mue2 ہے اس صورت میں اس جسم پر لگنے والی قوت F=G mue1 mue2/r^2 ہو گی ۔ ہم چونکہ اس جسم کو زمین پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں اور زمین ہمارےحساب سے ساکن حالت میں ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ فضا سے زمین کی طرف آنے والے جسم کی رفتار تبدیل ہو رہی ہے۔ اور اس پر لگنے والی قوت F= Mi* a ہے۔ یہاں Mi یعنی اس جسم کی جمودی کمیت اسکی ثقلی کمیت mue1 کے برابر ہو تو
Mi* a=G *Mi*mue2/r^2
اس مساوات میں Mi دونوں طرف موجود ہے اس لیے ہم لکھ سکتے ہیں کہ a=G mue2/r^2 ۔ اس مساوات کا مطلب کیا ہے؟ یہ مساوات ظاہر کرتی ہے کہ اگر جمودی کمیت اور ثقلی کمیت ایک ہی ہوں تو کشش ثقل کے زیر اثر حرکت کرنے والے اجسام کی رفتار میں تبدیلی کی شرح کا انحصار انکی کمیت پر نہیں ہوتا اور تمام اجسام چاہے کم کمیت والے ہوں یا زیادہ کمیت والے وہ ایک جیسے اسراع سے حرکت کرتے ہیں۔
یہ پتہ چلانا بہت آسان ہے۔آپ مختلف کمیت والے اجسام کو بیک وقت کسی جگہ سے نیچے گرائیں اگر وہ ایک ہی وقت پر زمیں سے ٹکرائیں تو اسکا مطلب ہے کہ اسراع کی قیمت مستقل ہے اور کمیت پر انحصار نہیں کرتی۔ اور یہ تجربہ آپ بھی کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ آپ دو مختلف اجسام کسی اونچائی سے ایک ہی وقت پھینکیں اور دیکھیں کہ کیا یہ ایک ساتھ زمیں سے ٹکراتے ہیں ؟اس میں اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ دونوں اجسام پر ہوا کی رگڑ کا اثر ایک جیسا ہو ۔ہوا کی رگڑ ایک جیسی رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دو ایک جیسے سائز اور شکل والے اجسام لے لئے جائیں۔آپ اس تجربے کے نتائج سے مجھے ضرور آگاہ کیجیئے گا۔
اب تک کئے گئے تجربات کی بدولت ہم جانتے ہیں کہ جمودی کمیت ثقلی کمیت کے برابر ہوتی ہے۔ اس برابری کو اب کائنات کا ایک اصول سمجھا جاتا ہے اور اسے ویک ایکویلینس پرنسپل کہا جاتا ہے۔ اس برابری کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ اسی اصول سے اخذ کیا گیا ایک اور اصول جسے سٹرونگ ایکویلینس پرنسپل کہا جاتا ہے آئن سٹائن کے نظریہ ا ضافیت عمومی کی بنیاد ہے۔
ابھی تک ہم نے دیکھا کہ کمیت کو دوطرح سے دیکھا جا سکتا ہے، ایک کسی جسم میں مادہ کی مقدار اور دوسرا اس جسم کی جمودی کمیت۔ آئن سٹائن کےنظریہ اضافیت خصوصی کے بعد ہم جانتے ہیں کہ توانائی کی تعریف میں کمیت بھی موجود ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کمیت کی کونسی والی قسم ہے؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اوپر میں خود لکھ چکا ہوں کہ جمودی کمیت اور ثقلی کمیت ایک ہی چیز ہے تو پھر اب یہ سوال کیوں؟ لیکن یہ وہ نکتہ ہے جہاں سے کمیت کے بارے میں غلط فہمی کا آغاز ہوتا ہے۔ نظریہ اضافیت خصوصی میں انرجی کی تعریف جس مساوات سے کی جاتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے
E=mc^2/sqrt(1-v^2/c^2)
اس مساوات کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں: E=mc^2+mv^2/2
اس مساوات میں پہلی ٹرم ریسٹ ماس یعنی ثقلی کمیت اور دوسری ٹرم حرکی توانائی کو ظاہر کرتی ہے۔ جب کوئی جسم کم رفتار سے حرکت کر رہا ہو تو اسے کم قوت لگا کر روکا جا سکتا ہے لیکن اگر جسم کی رفتار زیادہ ہو تو قوت بھی زیادہ خرچ کرنی پڑے گی دوسرے الفاظ میں وہ اپنی حالت میں تبدیلی کے خلاف زیادہ مزاحمت کرے گا یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس جسم کی جمودی کمیت میں اضافہ ہو گیا ہے لیکن کیا اس جسم کی ثقلی کمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے؟ اوپر والی مساوات میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ثقلی کمیت رفتار پر انحصار نہیں کرتی چنانچہ ثقلی کمیت یا مادے کی مقدار ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔
اوپر دی گئی مساوات کمیت اور توانائی کا باہم تعلق واضح کرتی ہے (یاد رہے کہ نظریہ اضافیت خصوصی سے پہلے کمیت اور توانائی کو ایک دوسرے سے مختلف تصور کیا جاتا تھا) یہی وجہ ہے کہ اضافی کمیت اور اضافی توانائی کے الفاظ کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس استعمال کی وجہ سے ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوتی ہے کہ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حرکت کی وجہ سے کسی جسم میں مادے کی مقدار بھی تبدیل ہو جاتی ہےدوسرے الفاظ میں ثقلی کمیت مختلف آبزرورز کے لیے مختلف ہوسکتی ہے جو کہ ایک غلط تصور ہے۔ اس غلط فہمی سے بچنے کے لیے زیادہ تر سائنس دان اضافی کمیت جیسے الفاظ کا استعمال پسند نہیں کرتے اور ہمیشہ اضافی توانائی کے الفاظ کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے کمیت سے مراد ہمیشہ وہ مقدار ہے جو تمام آبزرورز کے مستقل رہتی ہے۔
آخری جگہ جہاں پر کمیت سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے وہ ہے ہگزمیکینزم۔ اس میکینزم کی تفصیلات تو اگلی اقساط میں آئیں گی لیکن یہاں بھی یہ یاد رہے کہ ہگز میکینزم میں بھی کمیت سے مراد وہ کمیت ہے جو حرکت پر انحصار نہیں کرتی اور اس کی مقدار تمام آبزرورز کے لیے ایک جیسی رہتی ہے۔
————————————————————————–اگلی قسط میں ہم بنیادی ذرات کے باقی خواص کے بارے میں دیکھیں گے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 4 – ڈاکٹر محمد رحمان

کائنات – قسط نمبر 6 – ڈاکٹر محمد رحمان