in ,

رائل جیلی

رائل جیلی ۔ Royal Jelly

قرآن میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: “یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانی فیہ شفاء للناس”
یعنی ان (شہد کی مکھیوں) کے پیٹوں سے مختلف رنگ اور شکل کے سیال نکلتے ہیں جن میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ اس آیت مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ شہد میں جو شفا ہے وہ پھولوں کے رس کی وجہ سے نہیں بلکہ جب مکھیاں مختلف پھولوں کا رس چوس کر اپنے چھتوں میں لوٹتی ہیں تو اس رس کو اپنے پیٹ سے نکال کر چھتوں میں بنے مخصوص خانوں میں منتقل کردیتی ہیں۔ پھر اپنے پروں سے ہوا دے کر گاڑھا کرتی ہیں، پھر واپس چوس کر اپنے پیٹ میں لے جاتی ہیں، پھر دوبارہ نکال کر عمل تبخیر کے ذریعہ گاڑھا کرتی ہیں حتیٰ کہ شہد کی وسکاسٹی یعنی لسونت ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سارے مرحلے میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ بار بار پیٹ میں لیجانے اور نکالنے کی وجہ سے شہد میں مکھی کے نظامِ انہضام کے بے شمار نفع بخش خامرے یعنی انزائم شامل ہوجاتے ہیں جو شہد کے جادوئی اور کرشماتی شفائی اثرات کی اصل وجہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ راز ہے جو قرآن نے آج سے سوا چودہ سو سال پہلے ہی کھول دیا تھا لیکن جس کی گواہی سائنس آج دے رہی ہے۔ قرآن کے اعجاز کا پتہ دنیا کو اس وقت چلا جب جرمن سائنسدانوں نے شہد میں سے ان انزائمز کو رائل جیلی یعنی شہد کے جوہر کے نام سے علیحدہ کرلیا اور جس نے دنیا بھر میں اپنی حیرت انگیز شفائی تاثیر کی بنا پر شہرت پائی۔ جرمن دوا ساز کمپنیوں نے شہد کے اس جوہر کو شربت اور ٹیکوں کی شکل دے کر دنیا بھر میں خوب نام اور عزت کمائی۔ بعد میں اپنے طبی رسالہ میں کمپنی والوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے شہد کو اس طرح استعمال کرنے کا راستہ قرآن مجید سے حاصل کیا۔
شہد کے اس جوہر کو رائل جیلی کا نام اس وجہ سے دیا گیا ہے کیونکہ چھتے میں بچے صرف ملکہ مکھی ہی دیتی ہے۔ اور اپنے شہزادوں کو وہ جس خوراک پر پالتی ہے اس میں اس جوہر کا تناسب عام شہد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ یہ خصوصی خوراک بچوں کی تیز رفتار بڑھوتری میں بہت مدد فراہم کرتی ہے۔ ملکہ مکھی کے شہزادوں کی خوراک ہونے کی وجہ سے اسے رائل جیلی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی زبردست افادیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ جتنے بھی دوسرے جانور، چرند پرند ہیں ان کے بچے پرورش پانے کے بعد اپنے وزن کا بیس پچیس فیصد بڑھاتے ہیں۔ لیکن شہد کی مکھی کے بچوں میں وزن بڑھنے کا تناسب اپنے پیدائشی وزن کے مقابلہ میں ساڑھے تین سو گنا سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ غالباً ان کی خوراک کی وجہ سے ہے جو رائل جیلی پر مشتمل ہوتی ہے۔
رائل جیلی کو جرمنی، چین اور دنیا بھر میں استعمال کرنے کے بعد جن بیماریوں میں مفید پایا گیا ہے ان میں سے چند ایک ذیل میں مذکور ہیں۔ عام جسمانی کمزوری، دماغی اور جسمانی تھکن، بھوک اور وزن کا کم ہونا، خون کی کمی، وریدوں کی سوزش، جگر کی بیماریاں، جوڑوں کی بیماریاں، پٹھوں کا انحطاط یعنی ڈی جنریشن، خلل اعصاب، معدے کا السر وغیرہ شامل ہیں۔
ماخوذ از طب نبوی اور جدید سائنس۔ مصنف ڈاکٹر خالد محمود غزنوی۔
تیاری مضمون۔ اعجاز حسین عباسی۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مادے کے بہروپ۔

ادب کیا ہوتا ہے؟