in ,

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خودی۔
(تحریر۔ اعجاز حسین عباسی)

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال ؒ سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے خودی کا تصور کہاں سے اخذ کیا، تو انہوں نے سورۂ حشر کے تیسرے رکوع کی اِس آیت کا حوالہ دیا:

“اور ان کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلادیا تو اللہ نے ان سے اپنا آپ بھلا دیا، وہی لوگ فاسقوں میں سے ہیں۔”

اس سے پتہ چلا کہ خودی سے اقبال کی مراد انسان کی اپنی ذات، اپنے ہونے کا شعور اور اپنے وجود کا ادراک ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں ‘انائے مجازی’ کہا جاتا ہے۔ اب ‘انائےمجازی’ کیا ہے؟ یہ ‘انائے حقیقی’ کا پرتو یا عکس ہے۔قرآن میں اللہ فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ “جب میں اس (آدمؑ) میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔” قرآن میں ‘نفخت فیہ من روحہ’ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے اندر اپنی انا یعنی ‘میں’ کا جو احساس پیدائش سے لے کر اب تک موجود ہے، اور جس احساس کے ذریعے وہ اپنی ‘میں’ کو دوسرے کی ‘میں’ سے مختلف پاتا ہے، اسی احساس، اسی ادراک کو ‘انائے مجازی’ کہا جاتا ہے۔ مجازی اس وجہ سے کہ ہماری ‘میں’ دراصل ‘انائے حقیقی’ کا فیض یعنی عکس ہے۔ یعنی ہمارا ہونا اللہ کے ہونے سے ہے۔ اسی کے بارے میں مولانا رومؒ نے یوں اشارہ کیا:

خشک مغز، خشک تار و خشک پوست
از کجا می آئید ایں آوازِ دوست

یعنی بانسری(اِنسان) کا گودا، ریشہ، چھلکا، سب خشک ہے تو پھر اِتنی سریلی آواز کہاں سے آتی ہے۔
اب رہا دوسرا سوال کہ خودی کا بلند کرنا کیا ہے، اقبال کے نزدیک اس سے مراد ‘انائے مجازی’ کا ‘انائے حقیقی’ سے جڑ جانا یعنی تعلق استوار کرنا ہے۔

تو ہے محیطِ بے کراں، میں ہوں ذرا سی آب جو
یا مجھے ہم کنار کر، یا مجھے بے کنار کر

اور خودی کی یہ بلندی حاصل کیسے ہوتی ہے، اقبال کے نزدیک اس کا ذریعہ مجرد عقل نہیں.

عقل گو آستان سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

بلکہ یہ ذریعہ عشق ہے۔ کیونکہ اقبال کے نزدیک ‘انائے مجازی’ اور انائے حقیقی’ کے درمیان بے شمار حجابات ہیں اور یہ حجابات محض علم سے دور نہیں ہوتے کیونکہ علم تو خود ‘حجابِ اکبر’ ہے۔ بلکہ عشق سے، کیونکہ عشق اپنے دائرے سے نکل کر محبوب کے دائرے میں جینے کا نام ہے۔

عشق کی ایک ہی جست نے کردیا قصہ تمام
زمین و آسمان کو بے کراں سمجھا تھا میں

اور جو چیز اپنے دائرے سے نکلنے نہیں دیتی وہ ہے تکبر؛ تکبرِ علم ، تکبرِ ذات، تکبرِ زہد و تقویٰ و پارسائی۔

بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کنار مجھ کو
یہ میری خود نگہداری، میرا ساحل نہ بن جائے

اب رہا آخری سوال کہ خدا بندے سے کب پوچھتا ہے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ اس کا جواب حضور بابا فریدالدین مسعود ؒ کے بیان میں کہ چالیس سال تک جو اللہ نے کہا میں نے کیا، اب جو میں کہتا ہوں، اللہ کر دیتا ہے۔ احادیث میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ جب بندہ اطاعتِ رسولﷺ میں فرائض و نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرلیتا ہے تو اللہ بندے کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفرین، کار کشا، کار ساز

اور یہ مقام یہ مرتبہ حاصل کیسے ہوتا ہے،

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کائنات – قسط نمبر 10 – ڈاکٹر محمد رحمان

مادے کے بہروپ۔