in ,

مادے کے بہروپ۔

مادے کے بہروپ۔
(اعجاز حسین عباسی)

جب تمام مادی اشیاء بنیادی طور پر ایک جیسے ذرات کی ہی بنی ہوئی ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک ہی درجہ حرارت اور دباؤ پر کوئی چیز ٹھوس ہے، تو کوئی مائع اور کوئی گیس؟
لو پھر سنیے! اس سب کا دارومدار مادی اشیاء کے تشکیلی ذرات کے درمیان پائے جانے والی کشش کی قوتوں پر ہے، جو کسی میں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ ماحول کی حرکی توانائی ان کو توڑ نہیں سکتی لہذا وہ چیز ٹھوس بن جاتی ہے، اور کسی میں اتنی کمزور کہ ماحول کی حرکی توانائی ان کو توڑ کر ذرات کو علیحدہ کردیتی ہے جس سے وہ چیز گیس بن جاتی ہے، اور کسی میں اس اوسط درجہ کی کہ ذرات کو اپنی جگہ پر قائم تو نہیں رکھ سکتیں مگر ان کو آزادی سے علیحدہ ہونے کی اجازت بھی نہیں دیتیں، نتیجتاً وہ چیز مائع بن جاتی ہے۔
مثلاً آئنی مرکبات میں مثبت اور منفی آئنز کے درمیان الیکٹروسٹیٹک فورس یعنی برق سکونی کی قوت پائی جاتی ہے جو اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ماحول کا درجہ حرارت ان آئنز کو جدا نہیں کر پاتا، لہذا تمام کے تمام آئینی مرکبات ٹھوس ہوتے ہیں۔ خوردنی نمک یعنی سوڈیم کلورائیڈ اس کی بہترین مثال ہے۔
اس کے علاوہ، جن مادوں کے تشکیلی ذرات ایٹمز ہوتے ہیں، ان میں یہ قوت کوویلنٹ بانڈ کی قوت ہوتی ہے۔ یہ قوت بھی خاصی مضبوط ہوتی ہے لہذا ایسے مادے بھی عام درجہ حرارت پر ٹھوس شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ مثلاً ڈائمنڈ، گریفائٹ، سلیکان کاربائیڈ وغیرہ۔
کچھ مادوں کے تشکیلی ذرات ایٹمز کے مجموعے یعنی مالیکولز ہوتے ہیں، اور ان مالیکیولز کے درمیان قوت کشش انٹر مالیکیولر فورسز یعنی ہائیڈروجن بانڈنگ، ڈائپول ڈائپول انٹر ایکشنز، لنڈن ڈسپرشن فورسز وغیرہ۔ اگر تو مالیکیولز قطبی یعنی پولر ہوں تو پھر ان کے درمیان غالب طور پر مضبوط قسم کی ہائیڈروجن بانڈنگ یا ڈائپول ڈائپول قوتیں پائی جائیں گی جس سے وہ مادہ ٹھوس یا پھر مائع شکل اختیار کر لے گا۔ مثال کے طور پر چینی، گلوکوز، پانی وغیرہ۔ اور اگر مالیکیولز غیر قطبی یعنی نان پولر ہو تو پھر ان کے درمیان نسبتاً کمزور لنڈن ڈسپرشن فورس ہو گی، جو بڑے مالیکیولز میں کچھ مضبوط جب کہ چھوٹے مالیکیولز میں کافی کمزور ہوتی ہے۔ لہذا مالیکیول کے سائز اور لنڈن ڈسپرشن فورس کی طاقت کے لحاظ سے ان میں سے کچھ مادے جیسے آئیوڈین، سلفر، فاسفورس وغیرہ ٹھوس کی شکل میں، کچھ جیسے برومین وغیرہ مائع کی شکل میں، اور زیادہ تر جیسے کلورین، فلورین، ہیلیم، نی آن، آرگان وغیرہ، گیس کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

رائل جیلی