in ,

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ (دوم)

🌴حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ (دوم)🌴

♦️⁩جب شام ہوئی میرے پاس کھانے کی کوئی چیز تھی۔ میں قباء میں حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک شخص ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے ساتھی بھی ہیں اور آپ مسافر ہیں۔ میرے پاس صدقہ کا کچھ طعام ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ لوگ سب سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔ لیجئے! اسے تناول فرمائیے۔ سلمان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک تو اس صدقہ کے طعام سے روک لیا اور اپنے ساتھیوں کو فرمایا کھاؤ اور خود نہ کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ کے بارے میں جو نشانیاں مجھے بتائی گئی تھیں ان میں سے ایک نشانی پوری ہوگئی کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے۔

♦️⁩کچھ روز بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ چند روز بعد میں کوئی چیز لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا میں نے دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے۔ یہ چیز بطور ہدیہ میں لے آیا ہوں۔ یہ صدقہ نہیں ہے۔ سلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے اسے تناول فرمایا۔ میں نے دل میں کہا دو نشانیاں پوری ہو گئیں۔

♦️⁩دن گزرتے گئے۔ سلمان ایک غلام کی زندگی بسر کرتے رہے اور تجسس میں رہے کہ اس کے راہب نے اس نبی کے بارے میں جو نشانیاں بتائی تھیں کیا حضور کی ذات والا صفات میں یہ نشانیاں مکمل طور پر پائی جاتی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اپنے ایک نیازمند کے جنازہ کے سلسلہ میں بقیع شریف میں تشریف فرما تھے۔ میں پیچھے مڑا تاکہ میں آپ کی پشت مبارک پر ختم نبوت کا مشاہدہ کروں۔ جب حضور نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے سے گھوم کر آیا ہوں تو حضور نے اپنی پشت مبارک پر پڑی ہوئی چادر اٹھا لی۔ حضور کے دونوں کندھوں کے درمیان ختم نبوت کو میں نے دیکھ لیا، جس طرح میرے راہب نے مجھے بتایا تھا، تو میں جذبات سے بے قابو ہو کر گرپڑا۔ میں وارفتگی میں حضور کو بوسہ دے رہا تھا اور رو رہا تھا۔ سرکار دو عالم صلی اللہ نے فرمایا آگے آؤ۔ میں اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنی ساری داستان حضور کی خدمت میں پیش کی۔ یہ واقعہ آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں بیان کرنے کے بعد گزارش کی کہ اے ابن عباس! جس طرح میں نے آپ کو اپنی ساری بات سنائی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق میں نے حضور کے صحابہ کو بھی بالتفصیل اپنی کہانی سنائی تھی۔

♦️⁩میں غلام تھا اور اپنے آقا کی خدمت گزاری میں دن رات مشغول رہتا تھا اس لئے بدر اور احد کے غزوات میں شرکت کی سعادت سے محروم رہا۔ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان اپنے مالک کے ساتھ مکاتبت کرو۔ بس میں نے اپنے مالک کے ساتھ اس شرط پر مکاتبت کی کہ تین سو پودے لگا کر اور ہرے کرکے دوں گا۔ ان کے علاوہ چالیس اوقیہ چاندی پیش کروں گا۔ جب میں نے اس کی اطلاع سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو حضور نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، اپنے بھائی کی مدد کرو۔ انہوں نے میری مدد کی۔ کسی نے کھجور کے تیس پودے، کسی نے بیس، کسی نے پندرہ، کسی نے دس دیئے۔ یہاں تک کہ تین سو پورے ہوگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان، جاؤ اور ان پودوں کے لیے گڑھے کھودو، اور جب اس کام سے فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آؤ میں خود ان پودوں کو اپنے ہاتھ سے لگاؤں گا۔ میں نے جا کر تین سو گڑھے کھودے، جس میں میرے دینی بھائیوں نے بھی میرا ہاتھ بٹایا۔ پھر میں نے حاضر ہو کر عرض کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہمراہ لے کر اس جگہ کی طرف گئے۔ ہم وہ پودے اٹھا کر حضور کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے ان کو گڑھوں میں لگاتے جاتے تھے۔ سلمان کہتے ہیں مجھے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے، کہ ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مرا، سب کے سب ہرے ہو گئے۔

♦️⁩لیکن ابھی چالیس اوقیہ کی ادائیگی میرے ذمہ باقی تھی۔ ایک روز مرغی کے انڈے کے برابر سونا کسی کان سے بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا۔ حضور نے دریافت کیا اس فارسی مکاتب کا کیا بنا۔ میں حاضر ہوا۔ حضور نے وہ سونے کا انڈا مجھے دیا اور فرمایا کہ جو باقی زر مکاتبت تیرے ذمہ ہے اس سے ادا کردو۔ میں نے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کثیر زر مکاتبت ایک بیضہء زر سے کیونکر ادا ہوگا؟ تو قاسم خزائن الہی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اسے لے لو یہ قلیل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اسی سے سارا زر مکاتبت ادا کردے گا۔ میں نے لے لیا اور اپنے مالک کے پاس گیا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے اسی سے چالیس اوقیہ میں نے انہیں وزن کرکے ادا کر دیئے، اور یوں میں نے اس یہودی کی غلامی سے نجات پائی۔ اب میں آزاد تھا، ہر وقت حضور کی خدمت میں رہتا۔ پہلی جنگ غزوہء خندق تھی جس میں ایک آزاد مومن کی حیثیت سے میں نے شرکت کی، اور اس کے بعد کوئی جہاد ایسا نہیں ہوا جس میں نے شمولیت نہ کی ہو۔

💐منقول از ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم جلد اول مؤلفہ پیر کرم شاہ الازہری

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ۔

کیمسٹری۔ ایک مختصر تعارف