in ,

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ۔

🌴🌴حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ۔🌴🌴

♦️⁩آپ ایران کے مشہور شہر اصفہان کے رہنے والے تھے۔ آپ کا والد اپنے شہر کا سردار تھا اور اسے اپنے بیٹے سلمان سے شدید محبت تھی۔ یہاں تک کہ وہ انہیں ہر وقت اپنے گھر میں محفوظ رکھتا تھا تاکہ وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کا باپ آپ کو دین مجوسیت کی تعلیم دیتا تھا حتیٰ کہ آپ کو اس فن میں کمال حاصل ہو گیا۔

♦️⁩ایک دن آپ کے باپ نے نے اپنی زمینوں کی خبر گیری کے لیے آپ کو اپنے ڈیرے پر بھیجا۔ راستہ میں عیسائیوں کا ایک گرجا تھا۔ اس کے پاس سے گزرے تو وہ اپنی عبادت میں مشغول تھے۔ یہ اندر چلے گئے۔ ان عیسائیوں کی دعائیں اور طریقہ عبادت انہیں بہت پسند آیا۔ وہ شام تک وہیں بیٹھے ان کو دیکھتے رہے اور ان کی دعاؤں اور تسبیحوں کو سنتے رہے۔ ادھر باپ ان کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ اس نے ان کی تلاش میں ادھر ادھر آدمی دوڑائے۔ جب آپ باپ کے پاس آئے تو انہوں نے عیسائیوں کی عبادت کا ذکر کیا۔ باپ نے اس اندیشہ سے کہ وہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ نہ دے اس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں۔

ایک قافلہ وہاں سے شام کے ملک کی طرف جا رہا تھا۔ یہ کسی طریقہ سے اس قافلے میں شامل ہوگئے۔ جب شام پہنچے تو وہاں ایک کنیسہ میں گئے۔ کنیسہ کے پادری کو اپنے حالات سے آگاہ کیا اور وہاں اس کی خدمت میں رہنا شروع کر دیا۔ لیکن اس کے قول و عمل میں واضح تضاد دیکھا۔ بڑے رنجیدہ خاطر ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور لوگ جب صدقہ کی رقم اس کو دیتے ہیں تاکہ وہ غریبوں میں تقسیم کردے تو وہ اپنے پاس رکھتا ہے۔ جب وہ مر گیا تو سلمان نے لوگوں کو بتایا کہ تمہارے پادری کے یہ کرتوت تھے اور سو مٹکے جو سونے چاندی کے بھرے ہوئے تھے وہ تہہ خانہ سے نکال کر ان کے حوالے کر دیے۔ لوگوں نے اس پادری کو سولی پر چڑھایا، اس پر سنگ باری کی، پھر جاکر اسے دفن کیا۔

♦️⁩اس کی جگہ ایک اور پادری مقرر ہوا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اس کے بارے میں سلمان رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں نے کوئی اور آدمی ایسا نہیں دیکھا جو خضوع و خشوع سے پانچ نمازیں اس کی طرح ادا کرتا ہوں۔ دنیا کی چاہت کا تو اس کے ہاں کوئی تصور تک نہ تھا۔ کچھ مدت کے بعد وہ شخص فوت ہوگیا اور سلمان کو وصیت کی کہ وہ موصل میں فلاں شخص کے پاس جائیں اور اس کی اتباع کریں۔ حضرت سلیمان موصل پہنچے۔ یہ شخص بھی بڑا زاہد و متقی تھا۔ اور آپ اس سے بڑے متاثر ہوئے۔ جب وہ مرنے لگا تو حضرت سلیمان نے اس سے پوچھا کہ آپ تو اس جہان فانی سے رخصت ہو رہے ہیں۔ میں اب کس کی خدمت میں حاضری دوں۔اس نے کہا ہاں نصیبین میں ایک شخص ہے جس کا وہی طریقہ ہے جو ہمارا طریقہ ہے۔ تم اس کے پاس چلے جاؤ۔

♦️⁩آپ موصل سے نصیبین پہنچے اور اس شخص کی خدمت میں رہنے لگے۔ اس کی زندگی کی مہلت جب پوری ہوگئی تو آپ نے اس سے پوچھا کہ اب میں کس کا قصد کروں؟ اس نے کہا بخدا! صرف ایک شخص ہے جو ہمارے راستہ پر صدق دل سے گامزن ہے۔ وہ عموریہ میں رہتا ہے۔ تم اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری صحیح طور پر رہنمائی کریں گے۔ سلمان نصیبین سے عموریہ پہنچے اور اس نیک خصلت شخص کی خدمت میں زندگی بسر کرنے لگے۔ اس شخص کی زندگی نے بھی وفا نہ کی اور اس نے بھی جب اس دار فانی سے رخصت سفر باندھا، آپ نے اس سے پوچھا اب آپ بتائیے، میں اب کدھر کا رخ کروں؟ اس نے کہا بخدا! میری نظر میں اب کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جس کے پاس جانے کا میں تمہیں حکم دوں۔ لیکن اب اس نبی کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے دین کو دوبارہ زندہ کریں گے اور ان کی ہجرت گاہ نخلستان میں ہے جو دو جلے ہوئے میدانوں کے درمیان ہے۔ اگر تو وہاں پہنچ سکتا ہے تو وہاں پہنچ۔ اس نبی منتظر کی چند نشانیاں ہیں کہ وہ صدقہ نہیں کھاتا لیکن ھدیہ کھاتا ہے، اور اس کے کندھوں میں اپنی نبوت کا نشان ہے۔ جب تم دیکھو گے تو پہچان لو گے۔

♦️⁩سلمان کہتے ہیں کہ جب ہم نے اس شخص کو دفن کر دیا تو بنی کلب کے تاجروں کا ایک قافلہ پاس سے گزرا۔ میں نے ان کے وطن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم فلاں جگہ کے رہنے والے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر تم مجھے اپنی سرزمین میں پہنچا دو تو میری یہ گائے اور بکریاں اس کے عوض میں تم لے لو۔ وہ اس پر راضی ہوگئے۔ وہ انہیں لے کر وادی قریٰ پہنچے۔ لیکن انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے اپنا غلام بنا کر وادی قریٰ کے یہودیوں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ بخدا میں نے وہاں نخلستان دیکھا اور میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ وہی علاقہ ہے جس کے بارے میں راہب نے مجھے بتایا تھا۔

♦️⁩کچھ عرصہ کے بعد اس یہودی نے مدینہ طیبہ کے ایک یہودی کے ہاتھ مجھے فروخت کر دیا۔ وہ مجھے لیکر مدینہ طیبہ آیا جونہی میں نے اس شہر کو دیکھا میں نے اس کو پہچان لیا اور میں اپنے مالک کا غلام بن کر وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔ میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اپنی مرضی سے وہاں جا نہیں سکتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے قبا میں تشریف فرما ہوئے۔

♦️⁩ایک روز میں اپنے مالک کے نخلستان میں کھجور کے درختوں کی خدمت میں مصروف تھا کہ میرے مالک کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا اوس اور خزرج کے لوگوں کا ستیاناس ہو، یہ لوگ اس مسافر کے ارد گرد جمع ہیں جو مکہ سے ترک وطن کر کے قبا میں پہنچا ہے اور اس کے بارے میں وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ نبی ہے۔ میں نے جب ان کی یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں اپنے مالک کے اوپر نہ جا گروں۔ اس لئے میں اتر آیا اور میں نے پوچھاکہ تم کیا بات کر رہے تھے؟ میرے مالک نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے ایک زوردار مکہ رسید کیا، اور غصہ سے کہا تجھے اس بات سے کیا واسطہ؟ تم اپنا کام کرو۔ میں نے کہا میرا اس خبر سے کوئی واسطہ نہیں لیکن میں نے ایک بات سنی، میں نے چاہا کہا کہ میں اس بارے میں تصدیق کر لوں۔ (جاری)

💐(ماخوذ از ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم جلد اول- مصنف پیر کرم شاہ الازہری)

مسجد قبا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آنے سے پہلے تشریف فرما ہوئے۔🔻

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سو اونٹوں کی قربانی

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ (دوم)