in

LoveLove

کیمسٹری۔ ایک مختصر تعارف

کیمسٹری۔ ایک  مختصر تعارف

آج ہم کیمسٹری فرسٹ ایئر کے تحریری لیکچرز کے سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں۔ پہلا لیکچر کیمسٹری کے تعارف متعلق ہوگا۔ اس میں ہم جانیں گے کہ کیمسٹری کیا ہے؟   اور اس کو سمجھنے کے لیے کن بنیادی تصورات سے آگاہ ہونا ضروری ہے ؟ تو آئیے آغاز کرتے ہیں سب سے  اہم اور بنیادی سوال سے کہ:  ‘کیمسٹری کیا ہے؟

سادہ لفظوں میں بات کریں تو کیمسٹری مادے کی سائنس ہے; وہ مادہ جو  ہماری کائنات کا ہارڈ ویئر ہے، جس سے ہماری کائنات بنی ہوئی ہے۔  لیکن جو مادہ   ہمیں دکھائی دیتا  ہے، یہ کل کائنات نہیں۔ یہ پوری   کائنات  کا فقط پانچ فیصد ہے اور Visible Matter کہلاتا ہے۔ باقی 27 فیصد ایسا مادہ ہے جو دکھائی نہیں دیتا لیکن گھومتی کہکشاؤں کے ستاروں کو باندھے رکھنے اور انہیں بکھرنے سے بچانے میں اس کے اثرات سائنسدانوں کے مشاہدے میں آئے ہیں۔   اس وجہ سےاسے تاریک مادہ یعنی Dark Matter  کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی 68 فیصد کائنات تاریک توانائی یعنی Dark Energy  پر مشتمل ہےجو کائنات کے پھیلاؤ میں ہر لمحہ اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

 کیمسٹری میں مادے  کا مطالعہ تین طور پر کیا جاتا ہے:

  • مادے کی ترکیب اور ساخت کیا ہے؟
  • مادے کے خواص کیا ہیں؟
  • مادے میں تبدیلیاں کیا اور کیسے ہوتی ہیں، اور کن قوانین کے تحت ہوتی ہیں؟

مادہ کی ترکیب  Composition of Matter

مادے کی ترکیب کی بات کریں تو ہر طرح کا مادہ مختلف عناصر کا مجموعہ ہے، اور ہر عنصر چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جن کو ایٹم کہتے ہیں ۔ اگرچہ ایٹم سے چھوٹے ذرات بھی پائے جاتے ہیں جنہیں سب اٹامک پارٹیکلز کہا جاتا ہے، لیکن  ان  چھوٹےذرات میں عناصر کے خواص نہیں ہوتے، یہ ہر عنصر میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد ہزار سے اوپر ہے لیکن ان میں  سے تین یعنی  الیکٹرون، پروٹون اور نیوٹرون بہت  اہم ہیں جو تقریباً ہر ایٹم میں پائے جاتے ہیں۔ ان تین کو بنیادی ذرات یعنی  Fundamental Particles  کہا جاتا ہے۔ عناصر کے لیے فقط ان کی تعداد اہم ہوتی ہے ۔ مثلاً اگر کسی ایٹم میں ایک پروٹان اور ایک الیکٹرون ہوگا تو اسے ہم ہائیڈروجن ایٹم کہیں گے۔ اور اگر دو پروٹونز اور دو الیکٹرونز ہوں گے تو وہ  ہیلیم  ایٹم کہلائے گا۔ کسی ایٹم کے اندر پروٹونز کی تعداد کو اس کا اٹامک نمبر کہتے ہیں۔

جب یکساں اٹامک نمبر یکساں والے ایٹمز اکٹھے ہوں تو مادے کی جو شکل بنتی ہے وہ عنصر یا element کہلاتی ہے۔ اور جب مختلف اٹامک نمبر والے مختلف اقسام کے ایٹمز آپس میں کیمیائی طور پر ملیں تو مادے کی جو قسم بنتی ہے وہ مرکب یعنی compound کہلاتی ہے۔ عنصر یا مرکب دونوں کو مجموعی طور پر خالص مادہ یعنی pure substance کہا جاتا ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ سادہ طبعی طریقوں سے ان کی کمپوزیشن یعنی ترکیب تبدیل نہیں ہوسکتی اور ان کے اجزاء کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً پانی ایک مرکب ہے جو ہائیڈروجن اور آکسیجن ایٹمز کے ملنے سے بنتا ہے۔ آپ اسے ٹھنڈا  گرم کرکے دیکھ لیں، آپ اس  میں موجود  ہائیڈروجن اور آکسیجن  کو علیحدہ نہیں کرسکیں گے۔

ہمارے ارد گرد مادے کی ایک دوسری قسم بھی پائی جاتی ہے جسے ہم ناخالص مادہ یا Impure Substance کہتے ہیں۔ عرف عام میں یہ آمیزہ یا Mixture  کہلاتا ہے۔  بنا یہ بھی ایٹمز اور مالیکیولز کی ہی ہوتا ہے، لیکن اس میں مختلف عناصر یا مرکبات کے ذرات آپس میں کیمیائی طور پر نہیں ملے ہوتے۔ تبھی  ان کے اجزاء کو عام  طبعی طریقوں مثلاً گرم   یا فلٹر وغیرہ کرکے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ ہوا، مٹی، دودھ، شربت، جوس وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ ان کی آگے دو قسمیں ہوتی ہیں:

  • Homogeneous Mixtures    

وہ جن کے اجزاء آپس میں اچھی طرح حل ہو جائیں اور جس کی  کمپوزیشن  ہر جگہ سے یکساں ہو۔ مثلاً چینی یا نمک کا پانی میں محلول۔  

  • Heterogenous Mixtures  

وہ جن کے اجزاء آپس میں اچھی طرح حل نہ ہوں۔  مثلاً مٹی ریت وغیرہ  کا پانی میں محلول۔         

آمیزے یا Mixture  کی وہ قسم جس میں محلل یعنی Solvent  کوئی مائع ہومحلول یعنی  Solution  کہلاتی ہے۔ اس کی آگے تین قسمیں ہوتی ہیں، True solutions ، Colloidal solutions  اور Suspensions ۔

2۔مادے کے خواص  Properties of matter

کوئی بھی مادہ دو طرح کے خواص رکھتا ہے:

اول، وہ جن کا دارومدار مادے کی کیمیائی ساخت و ترکیب پر ہوتا ہے ۔ ان کو کیمیائی خواص  Chemical properties کہتے ہیں ۔مثلا برقی منفیت، بونڈ انرجی وغیرہ۔

دوم ،وہ خواص جن کا دارومدار مادے کی کیمیائی ساخت اور ترکیب پر نہیں ہوتا بلکہ کچھ دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔ ان کوطبعی خواص   Physical properties  کہتے ہیں ۔ جیسے پوائنٹ بوائلنگ پوائنٹ، سولیوبلیٹی وغیرہ۔

یاد رکھیں کیمیائی خواص کا دارومدار انٹرا مالیکیولر قوتوں مثلا آئنی بانڈ کوویلنٹ بانڈ وغیرہ پر ہوتا ہے جبکہ طبعی خواص کا دارومدار انٹر مالیکیولر قوتوں مثلا ہائیڈروجن بانڈنگ وغیرہ پر ہوتا ہے۔

3۔ مادے میں تبدیلیاں Changes in Matter

مادہ ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہ تبدیلیاں دو طرح کی ہوتی ہیں ۔

اول ،طبعی تبدیلی : اس تبدیلی میں مادے کی کیمیائی ساخت متاثر نہیں ہوتی بلکہ انٹر مالیکیولر  فورسز میں ردوبدل کی وجہ سے مادہ ایکحالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مثلاً پانی کو اگر گرم کریں تو ہائیڈروجن بانڈنگ ٹوٹنے کی وجہ سے یہ بھاپ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اگر اسے ٹھنڈا کریں تو ہائیڈروجن بونڈنگ طاقتور ہونے سے یہ برف میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

دوم ،کیمیائی تبدیلی:اس طرح کی تبدیلی میں مادے کی کیمیائی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں پرانے بانڈ مکمل یا جزوی طور پر ٹوٹ جاتے  ہیں اور  ان کی جگہ پرنئے بانڈ بن  جاتے ہیں ۔مثلا آپ کسی تیزاب اور اساس کو ملائیں تو عمل تعدیل   یعنی  Neutralization   کے نتیجہ میں نمک اور پانی بن جاتا ہے۔  پانی میں سے بجلی گزاریں تو  یہ ٹوٹ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن  بنا دیتا ہے۔

تبدیلی طبعی ہویا کیمیائی، دو طرح کی ہوتی ہے:

  • Irreversible یعنی یکطرفہ
  • Reversible یعنی دو طرفہ

قسم اول یعنی Irreversible change مکمل اور یکطرفہ تبدیلی ہوتی ہے۔ اس میں reactant مکمل طور پر product میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ریکشن رک جاتا ہے۔

جبکہ قسم دوم یعنی Reversible change ایک نامکمل اور دوطرفہ تبدیلی ہوتی ہے جس میں reactants کبھی بھی مکمل طور پر products میں تبدیل نہیں ہوتے بلکہ  reactants  جب  products  میں تبدیل ہو رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت  products  بھی  reactants میں تبدیل ہونا شروع  ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب ری ایکشن اختتام پذیر ہوتا ہے تو   reactants  اور products دونوں ایک خاص تناسب سے حرکی  توازن  یعنی  Dynamic Equilibrium کی حالت میں موجود ہوتے ہیں۔

یہ کیمسٹری کے چند بنیادی تصورات کا مختصر بیان تھا۔ اس کے بعد ہم فرسٹ ایئر ٹیکسٹ بک کی ترتیب کے مطابق ان تمام موضوعات کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ (دوم)

Chemistry-11: Lecture#1 (1.1: ATOM)