in

1.1.2: Molecule

کیمسٹری -11 لیکچر نمبر     4

خود مختار ذرّہ:۔

کیمسٹری کا سفر مادے سے شروع ہوا اور ایٹم سے گزرتا ہوا مالیکیول تک آپہنچا۔ پہلے آپ پڑھ چکے کہ ایٹم تمام مادے کی بنیاد ہے، یعنی ہر طرح کا مادہ ایٹم کا ہی بنا ہوتا ہے، اور ان مادوں کے خواص دراصل ان میں موجود مختلف عناصر کے ایٹمز کے خواص ہی ہوتے ہیں۔ لیکن یاد رہے ہر مادے میں ایٹم اپنے اصلی روپ میں ہی پایا جائے، یہ لازم نہیں۔ موقع محل کی مناسبت سے ایٹم مختلف روپ اختیار کرتا ہے، جن میں سے سب سے عام روپ مالیکیول کا ہے۔

“مالیکیول ایک ایٹم یا ایک سے زیادہ ایٹمز کا وہ مجموعہ ہوتا ہے جو ایک آزاد اور خودمختار ذرے کے طور پر رہ سکتا اور اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔”

یعنی مالیکول کے لیے شرط چھوٹا یا بڑا ہونا نہیں بلکہ ایک الگ، آزاد اور خودمختار وجود کی ہے۔ اگر ایک ایٹم بھی یہ صلاحیت رکھتا ہے تو وہ بھی مالیکیول کہلائے گا۔ مثلاً نوبل گیسزیعنی ہیلیم، نیون، آرگان، کرپٹان وغیرہ کے ایٹمز کے بیرونی شیل میں الیکٹرون پورے ہوتے ہیں۔ عموماً انہیں کسی دوسرے ایٹم کے ساتھ بانڈ بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ بطور ایٹم کے ہی اپنا وجود کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ لہذا ان گیسوں کے ایٹمز بیک وقت ایٹم بھی ہیں اور مالیکیول بھی۔ دوسرے الفاظ میں ساخت کے لحاظ سے ایٹم اور کردار کے لحاظ سے مالیکیول۔ ایسے مالیکیولز کو مونو اٹامک مالیکیولزMonoatomic Molecules کہا جاتا ہے یعنی ایک ایٹم پر مشتمل مالیکیولز۔

لیکن زیادہ تر ایٹمز ایسے ہوتے ہیں جن کے بیرونی شیلز مکمل نہیں ہوتے۔ ان میں جتنے الیکٹرون ہونے چاہییں، ان سے کم ہوتے ہیں۔ انہیں یہ الیکٹرونز پورے کرنے اور اپنے بیرونی شیلز کو مکمل کرنے کے لیے دوسرے ایٹمز کے ساتھ بانڈ بنانا پڑتے ہیں۔ اور اگر وہ یہ بانڈز اپنے بیرونی الیکٹرانوں کے اشتراک اور آربٹلز کے ملاپ کے ذریعے بنائیں یعنی کوویلنٹ بانڈ، تو پھر نتیجے میں جو ایک بڑا خودمختار ذرہ وجود میں آئے گا، مالیکیول کہلائے گا۔ لہذا مالیکیول ایٹمز کا ایک ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس میں موجود ہر ایٹم کے بیرونی شیلز میں الیکٹرون پورے ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ اپنی ویلنسی پوری کرچکا ہوتا ہے۔ [ان کی کچھ مستثنیات موجود ہیں جن کی اپنے مقام پر وضاحت کی جائے گی۔]

اب آتے ہیں مالیکیول کی خصوصیات کی طرف۔ پہلے بتایا جاچکا کہ مالیکیول ایک ایٹم پر مشتمل بھی ہوسکتا ہے اور ایک سے زیادہ ایٹمز پر بھی۔ مالیکیول کے اندر ایٹمز کی تعداد کو اس کی اٹامیسٹیAtomicityکہتے ہیں۔ اٹامیسٹی کے اعتبار سے مالیکیولز مختلف طرح کے ہوسکتے ہیں جیسے:

1: مونو اٹامک مالیکیولزMonoatomic Molecules: یعنی وہ مالیکیولز جو ایک ایٹم پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلا He, Me, Ar, Kr, Xe اور Rn وغیرہ۔

2: ڈائی اٹامک مالیکیولز Diatomic Molecules: یعنی وہ مالیکیولز جو دو ایٹمز پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلاً H2، O2، HCl وغیرہ۔

3: پولی اٹامک مالیکیولز Polyatomic Molecules: یعنی وہ مالیکیولز جو دو سے زیادہ ایٹمز پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلاً P4، S6، H2O،NH3 اور C6H12O6 وغیرہ۔

اور ایٹمز کی اقسام کے اعتبار سے مالیکیول دو طرح کے ہوتے ہیں:

1: وہ مالیکیولز جو ایک ہی قسم کے ایٹمز پر مشتمل ہوں، انہیں Molecules of the Elements کہا جاتا ہے۔ مثلاًHe، N2، O3، P4، S8وغیرہ۔

2: وہ مالیکیولز جو ایک سے زیادہ یا مختلف اقسام کے ایٹمز پر مشتمل ہوں، انہیںMolecules of the Compounds کہا جاتا ہے۔ مثلاًCO، SO2، NH3وغیرہ۔

مالیکیول کی شکل کیا ہوتی ہے، اس کا دارومدار دو باتوں پر ہوتا ہے:

1: مالیکیول کے اندر ایٹمز کی تعداد کیا ہے۔

2: مالیکیول کے اندر ایٹمز کی ترتیب اور آپس کا زاویہ کیا ہے۔

ان دونوں باتوں پر انحصار کرتے ہوئے مالیکیولز سائز میں چھوٹے بھی ہوسکتے ہیں جنہیں مائکرو مالیکیولز (Micromolecules) کہا جاتا ہے اور بڑے بلکہ بہت بڑے بھی جنہیں میکرومالیکیولز (Macromolecules) کہا جاتا ہے۔

میکرومالیکیولز بہت زیادہ ایٹمز اور مالیکیولر ماس رکھنے والے مالیکیولز ہوتے ہیں۔ ان کی بےشمار مثالیں ہیں جن میں ایک عام مثال ہمارے خون میں پائے جانے والے سرخ مادے ہیموگلوبن Haemoglobin کی ہے جو ایک پروٹین ہے۔ اس کا کام پھیپھڑوں سے آکسیجن جذب کرکے ٹشوز اور خلیات تک پہنچانا ہے۔ اس کا ایک مالیکیول تقریباً دس ہزار(10,000) ایٹمز پر مشتمل ہوتا ہے، اور اس کا مالیکیولر ماس ہائیڈروجن کے اٹامک ماس سے تقریباً 68,000 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ میکرومالیکیولز کی دیگر مثالوں میں سٹارچ، گلائکوجن، سیلولوز، ڈی این اے، آر این اے وغیرہ زیادہ معروف ہیں۔

Practice Short Questions

1: Differentiate between atom and molecule.

2: What is meant by the term atomicity? Give examples.

3: What is the difference between molecules of elements and molecules of compounds?

4: What are macoromolecules? Give an example.

5: What is haemoglobin? Give its structure and function.

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

1.1.1: Evidence of Atom ایٹم کا ثبوت