in

LoveLove

Chemistry-11: Lecture#1 (1.1: ATOM)

Subatomic particles. The various types of quarks are represented in violet. The various types of leptons are green and gauge bosons are orange. The Higgs boson is yellow. Labelled.

1.1: ایٹم

گذشتہ لیکچر میں جو کہ کیمسٹری کے تعارف کے متعلق تھاآپ کو بتایا گیا کہ کیمسٹری بنیادی طور پر مادے کی سائنس ہے اور مادے کی تشکیلی اکائی ایٹم ہے۔اس لیکچر میں ہم ایٹم کی دریافت کے تاریخی پس منظر پر نگاہ دوڑائیں گے۔

1) یونانی فلاسفہ اور ایٹمزم کا نظریہ: یہ نظریہ کہ اگر مادے کو مسلسل توڑتے چلے جائیں تو آخر ایٹم نام کاایک ایسا ذرہ حاصل ہوگا جو کہ ناقابلِ تقسیم ہوگا،   ایٹمزم  Atomismکہلاتا ہے۔اس نظریے کے مطابق کائنات دو چیزوں پر مشتمل ہے؛ Atoms  اور Voids یعنی ذرات اور خلاء۔ ایٹمز لامحدود شکلوں اور جسامت میں پائے جاتے ہیں۔یہ خلاء میں مختلف انداز میں آپس میں ملتے ہیں اور مختلف خصوصیات والے مادے تشکیل دیتے ہیں۔یاد رہے لفظ ‘ایٹم’ ایک یونانی لفظ ایٹموسAtomos سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ‘ناقابلِ تقسیم‘۔ یہ نظریہ دو یونانی فلاسفرز ‘لیوسیپس‘ ‘Leucippus‘ اور پھر اس کے شاگرد ڈیموکرائٹسDemocritus‘ نےپیش کیا۔ بعد میں تحریری مواد چونکہ ڈیموکرائٹس کا دستیاب ہوا، اس وجہ سےڈیموکرائٹس کا نام زیادہ معروف ہے۔افلاطون اور بالخصوص ارسطو اس نظریے کے بہت بڑے ناقد تھے جس کی وجہ سے تقریباً دو ہزار سال تک یہ نظریہ وہ توجہ حاصل نہیں کرسکا جس کا یہ مستحق تھا۔

2)  سترھویں صدی کی جدید کیمیا: اس کے بعدسترہویں صدی کے نصف آخر میں مادے کی ساخت کےمتعلق مزید کام کیا گیا۔ ایٹمز اور مالیکیولز کے متعلق نئے خیالات پیش کیے گئے جن کی بدولت ایٹمزم کے نظریے کو نئی زندگی ملی۔رابرٹ بوائل Robert Boyle‘ کا نام اس حوالے سے بہت نمایاں ہے جس نے 1661میںThe Sceptical Chymist نام کی ایک کتاب لکھی جس سے جدید کیمیا کی بنیاد پڑی۔اس دور میں جو کام ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد جو رنگا رنگ مرکبات پائے جاتے ہیں یہ فقط گنتی کے چندعناصر کے ملنے سے بنتے ہیں، اور اگر ان ہزاروں لاکھوں مرکبات کو توڑا جائے تو وہی چند عناصر  ہاتھ میں آتے ہیں۔

3) جان ڈالٹنJohn Dalton: رابرٹ بوائل کے بعد ایٹم کے حوالے سے جو سب سے نمایاں نام سامنے آتا ہے وہ جان ڈالٹن کا ہے۔ جان ڈالٹن ایک انگلش سکول ٹیچر تھا,جو ایک اچھا کیمیا دان اور ماہرِ موسمیات بھی تھا۔ اس نے 1808 میں اپنی کتاب “A  New system  Of  Chemical Philosophy شائع کی جس میں اس نے اپنے نئے اور انقلابی ایٹمی نظریے کی وضاحت کی۔ اس کے مطابقہ ہر طرح کا مادہ ایٹمز کا بنا ہوتا ہے۔ ایک عنصر کےتمام ایٹمز کا وزن ایک سا جبکہ مختلف عناصر کے ایٹمز کا وزن مختلف ہوتا ہے۔ اور مختلف مرکبات میں مختلف عناصر کے ایٹمز ہمیشہ ایک خاص نسبت سے اکٹھے ہوتے ہیں، جس کو قانون مستقل تناسب Law  of  Definite proportionsکا نام بھی دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس نے پہلے سے پیش کیے گئے ایک اور قانون “قانون بقائے مادہ” یعنی Law  of  Conservation  of  Matter کی وضاحت بھی ایٹم کی بنیاد پر کی۔

4)  ایٹم کی تعریف: پیچھے بیان کی گئی تمام پیش رفت کے نتیجہ میں ایٹم کی جدید تصورات کے مطابق تعریف کی گئی جو کہتی ہے کہ:

“ایٹم کسی عنصر کا وہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہوتا ہےجو عنصر کی تمام خصوصیات کا حامل ہوتا ہے، اور عنصر کے نمائندے کے طور پر کیمیائی تعاملات میں حصہ لیتا ہے۔”

کچھ عناصر کے ایٹمز ایسے ہوتے ہیں کہ وہ آزاد حالت میں رہ سکتے ہیں، انہیں دوسرے ایٹموں کے ساتھ بانڈ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلاً He, Ne وغیرہ۔ اور باقی زیادہ تر عناصر کے ایٹمز دوسرے عناصر کے ایٹمز کے ساتھ بانڈ بنا کر مرکبات کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً H, N, O وغیرہ۔

5) سب اٹامک پارٹیکلزSub-atomic Particles: جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایٹم ناقابل تقسیم نہیں۔ ایٹم کو توڑا جاچکا ہے، اور اس میں پائے جانے والے بے شمار ذرات دریافت ہوچکے ہین جن کی تعداد تقریباً ایک سو (100) سے زیادہ ہے۔ مثلاً الیکٹرون، پروٹون، نیوٹرون، ہائپرون، نیوٹرینو، اینٹی نیوٹرینو وغیرہ۔ تاہم یہ تمام ذرات کسی ایک ایٹم میں نہیں پائے جاتے۔ ان میں سے تین ذرات ایسے ہیں جو تقریباً تمام ایٹموں کا حصہ ہوتے ہین۔یہ الیکٹرون، پروٹون اور نیوٹرون ہیں جنہیں بنیادی ذرات یعنی Fundamental Particles کہا جاتا ہے۔

Subatomic particles. The various types of quarks are represented in violet. The various types of leptons are green and gauge bosons are orange. The Higgs boson is yellow. Labelled.

6) جے برزیلیس: جے برزیلیس سویڈن کا کیمیا دان تھاجس نے ایٹم کے حوالے سے دو نمایاں کام کیے۔ ایک ان میں سے یہ تھا کہ اس نے تب تک کے معلوم کئی عناصر کے ایٹمے وزن معلوم کیے، جو آج کے معلوم کردہ اوزان کے حیرت انگیز طور پر بہت قریب ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اس نے عناصر کے علامتی نام دینے کا ایک باقاعدہ نظام وضع کیا، جس سے آج ہم واقف ہیں۔

امتحانی اہمیت

امتحانی نکتہ نظر سے اس آرٹیکل کی اہمیت کم لیکن کیمسٹری کے بنیادی کونسیپٹس سمجھنے کے اعتبار سے یہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس میں سے مندرجہ ذیل مختصر سوالات پیپر میں پوچھے جاسکتے ہیں:

  1. How was the word atom derived?
  2. Who was John Dalton? What was his contribution to chemistry?
  3. Define atom. Give examples?
  4. What are sub-atomic particles? What is their number? Name some of them.
  5. What are fundamental particles of atom?
  6. Who was J. Berzelius? What was his contribution to chemistry?

نوٹ:  طالب علم ان سوالات کے جوابات تیار کریں۔ کوئی مشکل پیش آنے کی صورت میں ڈسکس کر سکتے ہیں۔

MCQs  TEST For  The  Students

MCQs ٹیسٹ کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

Video Test

Written by admin

2 Comments

Leave a Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کیمسٹری۔ ایک مختصر تعارف

Bond Making & Breaking__ First Ever View