in ,

چشم بینا بھی کر خدا سے طلب

چشم بینا بھی کر خدا سے طلب
(اعجاز حسین عباسی)
ہر مخلوق کی دیکھنے کی صلاحیت مختلف ہے۔مثال کے طور پر، الو دن کے مقابلے میں رات کو بہتر دیکھ سکتا ہے، اس کی وجہ اس کی آنکھ مخصوص ساخت ہے۔ اسی وجہ سے اس کے لیے دن اور ہے، اور ہمارے لیے اور۔ جس کو ہم دن کہتےہیں، اس کو یہ رات کہتا ہے۔ اور جو ہمارے لیے رات ہے، اس کے لیے وہ دن۔ اس کا مطلب ہے، دن اور رات حقیقی نہیں بلکہ اضافی چیزیں ہیں۔جس کو جو دکھائی دے، وہ اس کے لیے دن اور جو دکھائی نہ دے وہ رات۔ تو پھر مطلق دن کیا ہوا، مطلق اجالا کیا ہوا۔ سمجھ لیں کہ کائنات میں ہر طرف اجالا ہی اجالا ہے، اندھیرے کا کوئی وجود نہیں۔ پوری کائنات مختلف طول موج کی لہروں سے بھری پڑی ہے۔ ہر ایک نفس کو بقدر ضرورت مختلف امواج کے ادراک کی صلاحیت دی گئی ہے۔ انسان کی یہ صلاحیت بنفشی سے سرخ یعنی فقط سات رنگوں تک محدود ہے۔ باقی کائنات میں کیا رنگ ہیں، وہ اپنی ان ظاہری آنکھوں سے دیکھنے سے قاصر ہے۔ اس لیے انسان بصیر تو ہے، البصیر نہیں۔ البصیر وہ ذات ہے جو سب کچھ دیکھنے پر قادر ہے۔ کائنات کا کوئی رنگ جس سے مخفی نہیں۔ اندھیرا اس لیے انسان کے اندر ہوتا ہے باہر نہیں۔
قرآن پاک میں ہے “اللہ نور السموات والارض۔” اللہ نور ہے زمین اور آسمانوں کا۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ اللہ اپنے بندہ مومن کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اور یہ کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ اگر کائنات کے تمام رنگ دیکھنا چاہتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اللہ کے نور کے ذریعے سے دیکھنا اور اس نور کا مخزن انسان کے اندر مومن کا دل ہوتا ہے۔ تبھی تو اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ادب کیا ہوتا ہے؟

کائنات کی زمانی ترتیب