in ,

ادب کیا ہوتا ہے؟

ادب کیا ہوتا ہے؟
(اعجاز حسین عباسی)

اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی عہدہ، مرتبہ یا مقام دے رکھا ہے۔ ہر کسی سے اس کے عہدے یا مرتبے کے مطابق سلوک کرنا، اور اس کے مقام کے مطابق جو اس کا حق بنتا، وہ حق دینا ادب کہلاتا ہے، اور اس کے برعکس بےادبی۔ ادب اخلاق کے سر کا تاج ہے، بلکہ کامل ادب ہی کامل اخلاق ہے۔
عہدے یا مقام کا حق کیا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ آرمی میں آپ جانتے ہیں مختلف عہدے ہوتے ہیں۔ کوئی لیفٹیننٹ ہے تو کوئی کیپٹن، کوئی میجر ہے تو کوئی برگیڈئیر، کوئی کرنل ہے تو کوئی جنرل۔ آرمی کا اصول ہے کہ وہاں چھوٹا بڑا، کالا گورا، کم پڑھا لکھا زیادہ پڑھا لکھا، نیک بد، ذات پات عقیدہ مذہب نہیں دیکھا جاتا بلکہ صرف عہدہ یا رینک دیکھا جاتا۔ اگر کوئی آپ سے رینک میں بڑا ہے یا ایک ہی رینک میں آپ سے ایک دن بھی سینیئر ہے تو اس کو سلیوٹ کرنا اور اس کا حکم ماننا آپ پر لازم ہے۔ اس کو آپ آرمی کا ڈسپلن یا دوسرے الفاظ میں فوجی آداب کہ سکتے ہیں۔
اسی طرح خالق کائنات نے بھی اپنی مخلوق میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی عہدہ یا مرتبہ دے رکھا ہے، اور اس کے ذمہ کچھ امور تفویض کر رکھے ہیں جن کی ادائیگی اور پاسداری ان پر لازم ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے کسی کو ماں یا باپ کا عہدہ عطا کیا ہے تو کسی کو اولاد یعنی بیٹے یا بیٹی کا۔ اب بیٹا یا بیٹی چاہے وقت کے بادشاہ ہوں یا رستم زماں، آئین سٹائین ہوں یا ارسطو، ماں باپ کے سامنے جائیں گے تو بچے بن کر، اپنے تمام دنیاوی مراتب سے دستبردار ہوکر اپنے والدین کے سامنے جھکیں گے تو با ادب کہلائیں گے۔ اس کے ماں باپ کیسے بھی ہوں، نیک ہوں یا بد، امیر ہوں یا غریب، پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ، اولاد پر لازم ہے کہ ان کی کسی چیز پر توجہ نہ دے بلکہ ملحوظ رکھے تو فقط ان کے والدین ہونے کے رتبے اور عہدے کو جو اللہ نے انہیں عطا کیا۔ اور اس عہدے کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے ان سے محبت اور شفقت کا سلوک کرے۔ اگر اس میں کامیاب ٹھہرا تو ادب والا کہلائے گا وگرنہ بے ادب اور ناکام۔
اسی طرح کوئی کسی کا بھائی ہے، کوئی کسی کی بہن، کوئی استاد ہے کوئی شاگرد۔ اب شاگرد استاد کے عہدے اور مرتبے کو دیکھتے ہوئے اس کا احترام ملحوظ رکھے گا نہ کہ استاد کا اچھا برا یا قابل ناقابل ہونا۔ اگر وہ استاد کے مرتبے کو نظر انداز کرکے اس کی خوبیوں خامیوں پر نگاہ ڈالنا شروع کردے گا تو اپنے آپ کو بے ادبی کے گڑھے میں گرا دے گا۔ ہاں اگر والدین یا استاد برائی کا حکم دیں، تو ان کی تعمیل نہ کرے، لیکن ادب کے خلاف زبان سے کوئی بات نہ نکالے اور ساتھ ان کی ہدایت کی دعا بھی کرے کہ یہ والدین اور استاد کا اولاد اور شاگرد پر حق ہے۔ اسی طرح اللہ نے کسی کو کسی کا شوہر، بیوی، دوست، ہمسایہ، ہم سفر، ہم جماعت بنایا تو کسی کو پاکستانی، مسلمان اور انسان ہونے کا شرف بخشا۔ اپنے اور دوسروں کے مراتب کو پہچاننا اور ان کے حقوق ادا کرینا ہی ادب تمام ادب ہے۔
یہ اصول صرف انسانوں پر ہی لاگو نہیں ہوتا بلکہ تمام مخلوقات پر یکساں منطبق ہوتا ہے۔ مثلاً درخت اللہ کی مخلوق ہیں۔ ان کے ذمہ ہے کہ دوسری مخلوق کو سایہ، پھل اور تازہ ہوا بخشیں۔ یوں وہ درجہ احسان میں ہم سے اوپر ہیں۔ اب ادب یہ ہے کہ ہم ان کے احسان کو مانیں اور ان کے احسان کا بدلہ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کرکے دیں نہ کہ انہیں بلاوجہ کاٹ ڈالیں۔ یہ اللہ کی مخلوق کے آداب کے خلاف ہوگا۔ یہی معاملہ جانوروں مثلاً گائے، بھینس، بکری، گھوڑا، اونٹ اور دیگر چرند پرند اور حشرات کا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے عہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کررہا ہے۔ ان کے حقوق کا خیال رکھنا اللہ کی مخلوق کا ادب کہلائے گا۔
اور سب سے آخر میں سب سے بڑی اور اہم بات اور وہ ہے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب۔ حق تو یہ ہے کہ نہ تو ہم اس ادب کے تقاضوں کو کامل طور پر جان سکتے ہیں اور نہ صحیح طور پر ان کا حق ادا کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا و مولا اور دنیا و آخرت میں ہمارے شفیع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کا ادنیٰ ترین قرینہ تو یہ ہے کہ آپ کی ہر بات پر سر تسلیم خم کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور محبت میں دوام اور زندگی کا اختتام کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام سلامتی کو عام کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پاک سے محبت، ادب اور خدمت کا تعلق استوار کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجا جائے۔ اللہ ہمیں اس سب کی توفیق خالص بخشے۔
اللہ عزوجل کے ادب کا معاملہ اللہ جانے۔ جو ہمارے ناقص فہم میں آسکتا ہے وہ یہ کہ اللہ ہمارا خالق، ہمارا رب اور ہمارا معبود ہے۔ ہم اس کی مخلوق، اس کے پروردہ و محتاج اور اس کے بندے ہیں۔ اپنی عبدیت کا اعتراف کرنا، اپنے معبود کے سامنے ہی سر جھکانا اور اسی کے سامنے دامن طلب پھیلانا، اس کے علاؤہ کسی سے نہ امید لگانا اور نہ کسی کا خوف رکھنا اللہ کے ادب کا پہلا زینہ ہے۔
یا اللہ! ان کلمات میں جو درست اور احسن ہے وہ تیری طرف سے ہے، اور جو ناقص یا ناپسندیدہ ہے وہ ہمارے نفوس کی آمیزش ہے۔ یا اللہ ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو باعث خیر و ہدایت بنادے۔ اور ہماری اور امت مسلمہ کی بخشش کا ذریعہ بنا۔ آمین۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رائل جیلی

چشم بینا بھی کر خدا سے طلب