in

سو اونٹوں کی قربانی

سیرت النبی ﷺ
باب: 2
عنوان: سو اونٹوں کی قربانی

عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے۔ پہلے خواب میں ان سے کہا گیا: ” منّت پوری کرو۔” انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کرکے غریبوں کو کھلادیا۔ پھر خواب آیا: “اس سے بڑی پیش کرو۔” اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کردیا۔ خواب میں پھر یہی کہا گیا، “اس سے بھی بڑی پیش کرو۔” اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا۔ پھر خواب آیا اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو۔ انھوں نے پوچھا: “اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے۔” تب کہا گیا: “اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منّت مانی تھی۔”

اب انھیں اپنی منّت یاد آئی۔ اپنے بیٹوں کو جمع کیا۔ ان سے منّت کا ذکر کیا۔ سب کے سر جھُک گئے۔ کون خود کو ذبح کرواتا۔ آخر عبداللہ بولے:
“ابّاجان آپ مجھے ذبح کردیں۔”
یہ سب سے چھوٹے تھے۔ سب سے خوبصورت تھے۔ سب سے ذیادہ محبّت بھی عبدالمطلِّب کو انہیں سے تھی، لہٰذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا۔ تمام بیٹوں کے نام لکھ کر قرعہ ڈالا گیا۔ عبداللہ کا نام نکلا اب انھوں نے چُھری لی، عبداللہ کو بازو سے پکڑا اور انھیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹادیا۔

جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا، عبّاس سے ضبط نہ ہوسکا, فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا۔ اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے۔ ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا۔ اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں۔ ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے۔
اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آگئے۔ انھوں نے کہا:
“آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں، اس کی ماں کی زندگی خراب ہوجائے گی۔ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں۔”

اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا دیا جائے؟ اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ کاغذ کے ایک کاغذ پر دس اونٹ لکھے جائیں، دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے، اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کردئے جائیں۔ اگر عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کردیا جائے۔ پھر بیِس اونٹ والی پرچی اور عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے۔ اب اگر بیِس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیِس اونٹ قربان کردئے جائیں، ورنہ دس اونٹ اور بڑھادئیے جائیں۔ اس طرح دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں۔

عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے، دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے۔ ہر بار عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی۔ تب کہیں جاکر اونٹوں والی پرچی نکلی۔ اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کئیے گئے۔ عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالٰی نے عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کرلی ہے۔ انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کئیے اور کسی کو کھانے سے نہ روکا۔ سب انسانوں، جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا۔

امام زہری رح کہتے ہیں کہ عبدالمطلِّب پہلے آدمی تھے جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا۔ اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے۔ اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہوگیا۔ گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے۔ نبی کریمﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے۔
اور اسی بنیاد پر نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
میں دو ذبیحوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں۔

حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ان کا چہرہ روشن ستارہ کی ماند تھا۔ قریش کی بہت سی لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئ۔ حضرت آمنہ وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔

یہ شادی کے لیئے اپنے والد کے ساتھ جارہے تھے۔ راستہ میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئی، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی۔ ورقہ بن نوفل قریش کے ایک بڑے عالم تھے۔ ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہےاور انکی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہوگی کہ ان کے والد کے چہرے میں نبوت کا نور چمکتا ہوگا۔ جونہی اس نے عبداللہ کو دیکھا، فوراً اس کے ذہن میں یہ بات آئی۔ اس نے سوچا ہو نہ ہو یہ وہ وہ شخص ہے جو پیدا ہونے والے نبی کے باپ ہوں گے۔چنانچہ اس نے کہا:
“اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو میں بدلہ میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی جتنے تمہاری جان کے بدلے میں ذبح کئے گئے تھے۔”
اس پر انہوں نے جواب دیا:
“میں اپنے باپ کے ساتھ ہوں۔ ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔ نہ ان سے الگ ہوسکتا ہوں اور میرے والد باعزت آدمی ہیں، اپنی قوم کے سردار ہیں۔”

بہر حال انک شادی حضرت آمنہ سے ہوگئی۔ آپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے افضل تھیں۔
حضرت آمنہ، حضرت عبداللٰہ کے گھر آگئیں۔ آپ فرماتی ہیں: “جب میں ماں بننے والی ہوئی تو میرے پاس ایک شخص آیا، یعنی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا۔ اس وقت میں جاگنے اور سونے کے درمیانی حالت میں تھی (عام طور پر اس حالت کو غنودگی کہاجاتاہے)۔ اس نے مجھ سے کہا:
“کہا تمہیں معلوم ہے، تم اس امت کی سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہو۔”
اس کے بعد وہ پھر اس وقت آیا جب نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے۔ اس مرتبہ اس نے کہا:
“جب تمہارے ہاں پیدائش ہو تو کہنا:
“میں اس بچے کے لیے اللٰہ کی پناہ چاہتی ہوں، ہر حسد کرنے والے کے شر اور برائی سے – پھر تم اس بچے کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ ان کا نام تورات میں احمد ہے اور زمین اور آسمان والے ان کی تعریف کرتے ہیں، جب کہ قرآن میں ان کا نام محمد ہے، اور قرآن ان کی کتاب ہے۔ “(البدایہ والنہایہ)

ایک روایت کے مطابق فرشتے نے ان سے یہ کہا:
“تم وقت کے سردار کی ماں بننے والی ہو، اس بچے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک نور ظاہر ہوگا، جس سے ملک شام اور بصرٰی کے محلات بھر جائیں گے۔ جب وہ بچہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ تورات میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں، اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور قرآن میں ان کا نام محمد ہے۔ “(البدایہ والنہایہ)

حضرت عبداللٰہ کے چہرے میں جو نورچمکتا تھا، شادی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے میں آگیا تھا۔
امام زہری فرماتے ہیں، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہےاور اس کوصحیح قراردیا ہے کہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے حضور نبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
“اے اللٰہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتایئے۔”
آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور خوشخبری ہوں، جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا ہے جس سے ملک شام میں بصرٰی کے محلات روشن ہوگئے۔”

حضرت آمنہ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا تھا:
“میرے اس بچے کی شان نرالی ہے، یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی بوجھ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی۔”
حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشخبری سنائی ہے۔ اس بشارت کا ذکر قرآن میں بھی ہے، سورہ صف میں اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں:

“اور اسی طرح وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللّٰہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہیں، ان کا نامِ مبارک احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔”

اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سناچکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کا بےچینی سے انتظار کررہے تھے، ادھر آپ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللّٰہ انتقال کرگئے۔ سابقہ کتب میں آپ کی نبوت کی ایک علامت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آپ کے والد کا انتقال آپ کی ولادت سے پہلے ہوجائے گا۔ حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے، اس دوران بیمار ہوگئے اور کمزور ہوکر واپس لوٹے – قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنی ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔ ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں، ایک ماہ تک بیمار رہے اور انتقال کرگئے۔ انہیں یہیں دفن کردیا گیا۔

تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبدالمطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بیمار ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنی ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو عبداللہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے۔ (جاری)

(منقول)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زم زم کی کھدائی

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ۔