in ,

کائنات کی زمانی ترتیب

کائنات کی زمانی ترتیب

اس مضمون کے پہلے حصے میں ہم نے کائنات کی مکانی ترتیب کے متعلق جانا کہ وہ حقیقی نہیں ہوتی، یعنی ہم جس وقت آسمان پر کسی خاص ستارے کو کسی خاص مقام پر دیکھ رہے ہوتے ہیں تو حقیقتاً اس وقت وہ وہاں پر موجود ہی نہیں ہوتا۔ ہم دراصل اس لمحے اس ستارے کے ماضی کی تصویر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم کائنات میں نظر آنے والے مظاہر کی زمانی ترتیب کے متعلق جانیں گے کہ وہ بھی حقیقی نہیں ہوتی۔ یعنی جس زمانی ترتیب کے ساتھ کائنات میں ہمیں واقعات ظہور پذیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں وہ ترتیب بھی اصل نہیں ہوتی۔ دوسرے الفاظ میں آسمانوں میں ایک واقعہ اگر ہمیں پہلے ہوتا دکھائی دے اور دوسرا بعد میں، تو لازم نہیں کہ حقیقت میں بھی ایسا ہو بھی رہا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ بعد میں نظر آنے والا واقعہ پہلے وقوع پذیر ہوا ہو اور پہلے نظر آنے والا بعد میں۔۔۔ کیسے؟ آئیے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں آپ کو زمین سے پچاس نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک ستارہ ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے، اور پھر ایک گھنٹے کے بعد پانچ سو نوری سال کے فاصلے پر ایک اور ستارہ پیدا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ تو کیا خیال ہے؟ جس ترتیب سے آپ یہ واقعات دیکھ رہیں ہیں، کیا وہ حقیقی ہے؟ کیا جس ستارے کو آپ نے پہلے ٹوٹتے دیکھا وہ واقعی پہلے ٹوٹا اور دوسرا ستارہ جس کو بعد میں بنتے دیکھا وہ واقعی بعد میں پیدا ہوا۔ جی نہیں، حقیقی منظر نامے میں ایسا نہیں۔ جو ستارہ آپ نے بعد میں پیدا ہوتے دیکھا وہ دراصل پانچ سو سال پہلے پیدا ہوا تھا، اس کی روشنی پانچ سو سال کا سفر کرکے آپ تک اب پہنچی اور اس کے پیدا ہونے کا منظر آپ کو اس وقت نظر آیا۔ اور جس ستارے کو آپ نے پہلے ٹوٹتے دیکھا وہ دراصل پچاس سال قبل ٹوٹا تھا، اس کی روشنی پچاس سال تک سفر کرکے آپ تک پہنچی اور آپ نے اب اس کے ٹوٹنے کا مشاہدہ کیا۔ اب ان دونوں واقعات میں زمانی فاصلہ کتنا ہوا؟ پانچ سو منفی پچاس۔۔۔۔ ساڑھے چار سو سال۔ یعنی یہ دونوں واقعات چار سو پچاس سال کے وقفے سے وقوع پذیر ہوئے۔ جبکہ آپ کو ان دونوں واقعات کا درمیانی وقفہ کتنا دکھائی دیا؟ محض ایک گھنٹہ۔ لہذا نہ صرف ان کی دکھائی دینے والی زمانی ترتیب غلط ہے بلکہ ان دونوں واقعات کے درمیان وقفہ بھی اصلی نہیں۔ اور یہی دونوں واقعات اگر ان ستاروں کی دوسری جانب آپ کی مخالف سمت میں موجود کوئی اور مخلوق دیکھ رہی ہو تو اسے یہ دونوں واقعات بالکل مختلف زمانی ترتیب اور درمیانی وقفہ کے ساتھ نظر آئیں گے۔ اور یونہی کائنات کے مختلف مقامات سے دیکھنے والوں میں سے ہر ایک کا مشاہدہ ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہوگا اور کسی کا بھی حقیقی نہیں۔ تو اس کائنات کا حقیقی مشاہدہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اور کہاں سے کیا جاسکتا ہے؟ سائنس اس کا جواب دینے سے قاصر ہے، اور اس کے مطابق کائنات کا درست زمانی و مکانی ترتیب کے ساتھ مشاہدہ ممکن ہی نہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ کائنات میں انفارمیشن کی حد رفتار اسپیڈ آف لائٹ ہے جبکہ کائنات کی وسعتیں اتنی زیادہ کہ کائنات کے دور دراز گوشوں سے روشنی ہم تک اربوں سالوں میں پہنچتی ہے۔ یعنی جب ہم زمین پر کھڑے شش اطراف میں نگاہ دوڑاتے ہیں تو جتنا دور ہماری نگاہ چلتی چلی جاتی اتنا ہم کائنات کے ماضی میں سفر کرتے جاتے ہیں۔ بیک وقت پوری کائنات کے حال کا نظارہ ہماری آنکھ کا نصیب ہی نہیں۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

چشم بینا بھی کر خدا سے طلب

زم زم کی کھدائی