in ,

ڈارک میٹر اینڈ ڈارک انرجی۔۔۔پراسرار کائنات۔

ہماری کائنات کا زیادہ تر حصہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اکثر فلکیات دانوں کے مطابق کائنات کا غالب حصہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر مشتمل ہے، اگرچہ ہم اسے دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔ لیکن یہ سب کچھ ہمارے ارد گرد دائیں بائیں موجود ہے۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی میں فرق کیا ہے؟ مختصراً بیان کریں تو ڈارک میٹر کو کائنات کے پھیلاؤ کو روکنے والی چیز سمجھ لیں جبکہ ڈارک انرجی کو کائنات کے پھیلاؤ کو تیز کرنے والی قوت۔ کیسے۔۔۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

ڈارک میٹر ایک کشش کی قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔۔۔ آپ اسے ایک کائناتی سیمنٹ سمجھ لیں۔۔۔جو ہماری کائنات کو جوڑے ہوئے ہے۔ یہ اس طرح کہ ڈارک میٹر کشش ثقل کے ساتھ تعامل کرتا ہے یعنی مادی اجسام کو جکڑے رکھتا ہے، لیکن یہ روشنی کو جذب، منعکس یا منعطف نہیں کرتا جس کی وجہ سے یہ دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری طرف ڈارک انرجی ایک دفع کی قوت ہے ۔۔۔ ایک طرح کی ضد کشش۔۔۔جو ہر لمحہ کائنات کے پھیلاؤ کو تیز تر کر رہی ہے۔

ڈارک میٹر کے مقابلے میں ڈارک انرجی کہیں زیادہ غالب قوت ہے، اور یہ کائنات کے کل ماس اور انرجی کا تقریباً 68 فیصد بناتی ہے۔۔۔ ڈارک میٹر 27 فیصد۔ اور باقی۔۔۔ جی ہاں محض 5 فیصد۔۔۔ وہ مادہ اور توانائی ہے جو ہم دیکھتے اور برتتے ہیں، یعنی دکھائی دینے والی کائنات۔

ڈارک میٹر۔

1930 میں، سوئس نژاد ماہر فلکیات فرٹز زوکی نے ایک ہزار کے قریب ان کہکشاؤں کا مشاہدہ کیا جو ‘کوما کلسٹر’ میں شامل ہیں۔ اس نے ایک عجیب مظہر کی نشاندہی کی۔۔۔ کہکشائیں اتنی تیزی سے حرکت کر رہی تھیں کہ انہیں اپنی تیز رفتاری کی بدولت کلسٹر سے الگ ہونا چاہیے تھا، لیکن بوجوہ وہ ایسا کر نہیں پارہی تھیں۔ اس کے خیال میں غالباً کوئی دکھائی نہ دینے چیز یا مادہ تھا جو انہیں باندھے ہوئے تھا۔

دہائیوں بعد، چند اور فلکیات دان، ویرا روبن اور کینٹ فورڈ نے بھی اسی مظہر کا مشاہدہ کیا جب وہ کہکشاؤں میں ستاروں کی گردش کی رفتار کا مطالعہ کر رہے تھے۔ حرکت کے اصولوں کے تحت، وہ ستارے جو کہکشاں کے کناروں پر واقع ہوں، ان کی گردش ان ستاروں سے آہستہ ہونی چاہیے جو کہکشاں کے مرکز کے قریب واقع ہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، یعنی سورج سے دور والے ستارے آہستہ اور قریب والے ستارے تیز گردش کرتے ہیں۔ لیکن جن کہکشاؤں کا وہ مشاہدہ کر رہے تھے وہاں معاملہ الٹ تھا۔ کناروں پر موجود ستاروں کی گردش مرکز کے قریب موجود ستاروں سے تیز تھی۔ یا للعجب! یہ سب کیا تھا۔ روبن اور فورڈ کو اسی طرح کے کچھ اور بھی شواہد ملے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ کوئی غیر مرئی مادہ کائنات میں موجود تمام ستاروں کو تھامے ہوئے ہے، تبھی کناروں پر موجود ستارے تیز گردش کرنے کے باوجود بھی کہکشاں سے ٹوٹ کر الگ نہیں ہو پا رہے۔

“حتیٰ کہ کناروں پر موجود ستارے زیادہ تیز رفتاری سے گردش کر رہے تھے۔” روبن نے ایک دفعہ انٹرویو دیتے ہوئے بتایا۔ “لازمی طور پر وہاں بہت بڑی مقدار میں مادہ ہونا چاہیے تھا جو ان ستاروں کو جوڑے ہوئے ہو، اور انہیں علیحدہ نہ ہونے دے، لیکن ایسا کوئی مادہ وہاں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔ اسی وجہ سے اسے ہم ڈارک میٹر یا تاریک مادے کے نام سے پکارتے ہیں۔”

فلکیات دانوں کے پاس اب کئی دوسرے ذرائع سے موصول ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈارک میٹر حقیقتاً موجود ہے۔ درحقیقت۔۔ ڈارک میٹر کا وجود اتنے وسیع طور پر تسلیم شدہ ہے کہ یہ اس ‘سٹینڈرڈ ماڈل آف کاسمولوجی’ کا بھی حصہ بن چکا ہے جو کائنات کی ابتداء اور ارتقاء کو سمجھنے کی سائنسی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔۔جس کے بغیر ہم اپنے یہاں ہونے کی سائنسی توجیہ بھی نہیں پیش کرسکتے۔

لیکن اس بلند بانگ دعوے نے کائنات کا مشاہدہ کرنے والے سائنسدانوں پر دباؤ بڑھا دیا کہ وہ ڈارک میٹر کا ثبوت ڈھونڈیں اور ثابت کریں کہ ان کا کائناتی ماڈل درست ہے۔ دہائیوں تک، دنیا بھر کے طبیعات دان جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈارک میٹر کے مشاہداتی ثبوت کی تلاش میں رہے لیکن بے سود، ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

ڈارک انرجی۔

ایک صدی ہوئی جب سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ہماری کائنات پھیل رہی ہے۔ دوربینوں کی مدد سے پتہ چلا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جارہی ہیں، جس کا صاف صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ کبھی ماضی بعید میں وہ بہت قریب یا اکٹھی تھیں۔ اس مشاہدے کے نتیجہ میں بگ بینگ کا نظریہ وجود میں آیا۔ تاہم سائنسدانوں نے سوچا کہ ستاروں اور کہکشاوں کی آپس کی کشش کی وجہ سے کائنات کا پھیلاؤ وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ ہوتا چلے جانا چاہیے۔ اور غالباً کسی وقت یہ پھیلاؤ رک جائے گا، اور آپس کی کشش کے زیر اثر کائنات سکڑتی ہوئی آخر بھنچ جائے گی، جسے ‘بگ کرنچ’ کا نام دیا گیا۔

لیکن گزشتہ صدی میں نوے کی دہائی کے آخر میں یہ تصور بھی چکنا چور ہوگیا، جب فلکیات دانوں کی دو ٹیموں نے کائنات میں ایک ایسے مظہر کی نشاندہی کی جس کی کوئی توجیہ نہیں ہو پا رہی تھی۔ دور دراز کی کہکشاؤں میں سپرنوا کا مطالعہ کرنے والے تحقیق کاروں نے یہ دریافت کیا کہ دور دراز کی کہکشائیں ہماری قریبی کہکشاؤں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے ایک دوسرے سے فاصلے بڑھا رہی ہیں۔ مطلب۔۔۔ کائنات صرف پھیل نہیں رہی۔۔ بلکہ اس کا پھیلاؤ تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔

“میرا اپنا رد عمل کسی حد تک حیرت اور خوف کے بین بین تھا۔” ماہر فلکیات برائن شمٹ جو دو تحقیقی ٹیموں میں سے ایک کا سربراہ تھا، نے 1998 میں نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔ “حیرت اس وجہ سے کیونکہ میں اس طرح کے نتیجے کی توقع نہیں کر رہا تھا، اور خوف کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ ممکنہ طور پر ماہرین فلکیات کی اکثریت اس بات پر یقین نہیں کرے گی۔۔۔ جو میری طرح غیر متوقع نتائج کو قبول کرنے میں انتہائی متشکک تھے۔”

لیکن بجائے مسترد ہونے کے، مزید مشاہدات نے ڈارک انرجی کے مفروضے کو اور بھی مستحکم کردیا۔ بلکہ ڈارک میٹر کے چند نمایاں نقاد بھی اب تو ڈارک انرجی کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔

اب اس سب کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تحقیق کار جانتے بھی ہیں کہ ڈارک انرجی کیا ہے۔ اگرچہ وہ ڈارک انرجی کی نوعیت کو بیان نہیں کر سکتے، لیکن کائنات میں اس کے کردار کو ضرور واضح کر سکتے ہیں، اور یہ سب آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مرہون منت ہے۔ آئن سٹائن بذات خود ڈارک انرجی سے باخبر نہیں تھا۔ لیکن اس کی مساواتیں اسے بتاتی تھیں کہ نئی سپیس وجود میں آسکتی ہے۔ اور اس نے محض اپنے نظریے کو سہارا دینے کے لیے نظریہ اضافیت کی مساوات میں ایک بھرتی کے کانسٹینٹ کا اضافہ کیا جسے کاسمولوجیکل کانسٹینٹ کہتے ہیں، صرف اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہ کیوں یہ کائنات اندر کی جانب سکڑ یا بھنچ نہیں سکتی۔ یہ علیحدہ بات کہ آئن سٹائن ہمیشہ اس کانسٹینٹ کے اضافے پر افسوس کا اظہار کرتا رہا۔ اس کے مطابق خلاء خالی نہیں بلکہ اس میں بے بہا انرجی موجود ہے۔ یہ الگ بات کہ ابھی تک سائنسدان زمین پر اس انرجی کا مشاہدہ نہیں کرسکے۔

کچھ نظری سائنسدانوں کے خیال میں نظر نہ آنے والے ذرات اور قوتوں کا ایک پورا جہان ہے، جو ابھی دریافت ہونا ہے۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کس چیز کے بھی بنے ہوں۔۔۔ ابھی معلوم نہیں، لیکن بظاہر کائنات میں وہ رسہ کشی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ ایک ستاروں اور کہکشاؤں کو اندر کی جانب کھینچ رہا ہے تو دوسرا باہر کی جانب۔

(ترجمہ و تالیف۔ اعجاز حسین عباسی)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

آپ کیا فیصلہ کریں گے، یہ فیصلہ کون کرتا ہے۔

آکسیجن جلاتی ہے، مگر جلتی نہیں۔ ہائڈروجن جلتی ہے، مگر جلاتی نہیں۔ دونوں ملتے ہیں تو پانی بنتا ہے، جو نہ جلتا ہے نہ جلاتا ہے، بلکہ جلتے کو بجھاتا ہے؟