in

واولز اور کانسونینٹس

***واولز اور کانسونینٹس***
(Vowels & Consonants)
(تحریر: اعجاز حسین عباسی)

واول (vowel) اور کانسونینٹ (consonant) میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اس کا معصومانہ سا جواب تو یہ ہے کہ a, e, i, o, u کو واول کہتے ہیں جبکہ باقی انگریزی حروف تہجی کو کانسونینٹ۔ لیکن یہ اتنا مزیدار جواب نہیں کیونکہ یہ ان اصطلاحات کے متعلق آپ کو معلومات تو فراہم کر رہا ہے مگر ان کا اصل کانسیپٹ نہیں دے رہا۔ واول اور کانسونینٹ کا اصل کانسیپٹ کیا ہے، اس کو جاننے کے لیے پہلے آواز پیدا ہونے کے عمل کو سمجھیے۔

پھیپھڑوں میں جمع شدہ ہوا جب دباؤ کے تحت ہوا کی نالی یعنی trachea سے ہوتی ہوئی لیرنکس (larynx) میں سے گزرتی ہے تو وہاں موجود دو تنی ہوئی صوتی تاروں یعنی vocal cords کو مرتعش کردیتی ہے۔ صوتی تاروں کے اس ارتعاش کے نتیجے میں آواز پیدا ہوتی ہے۔

لیکن یاد رکھیں! یوں پیدا ہونے والی آواز محض ایک پلین ساؤنڈ ہوتی ہے، الفاظ نہیں ہوتے۔ الفاظ تب بنتے ہیں جب دماغ کی ہدایات کے زیراثر ہمارا حلق، تالو، رخسار، زبان، ہونٹ اور اندرون ناک مختلف انداز میں حرکت کرکے اس خارج ہوتی ہوا کے رستے میں مزاحم ہوتے ہیں اور یوں اس بنیادی صوت میں ترمیم کا باعث بنتے ہوئے مختلف phonemes یا اصوات کو جنم دیتے ہیں۔

مثلاً جب حرف میم یا m بولا جاتا ہے تو ہونٹ مل کر منہ سے ہوا کے اخراج کو بند کر دیتے ہیں، جبکہ ناک کا رستہ مکمل طور پر کھل جاتا ہے۔ لہذا میم کی صوت ناک سے نکلتی ہے۔ آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں، آپ ناک بند کرکے اور منہ کھول کر کبھی میم کی صوت پیدا نہیں کرسکتے۔ یونہی ‘ب’ یعنی ‘b’ کی صوت تب پیدا ہوتی ہے جب ناک بند اور منہ کھلا ہو۔ آپ کبھی منہ بند اور ناک کھول کر ‘ب’ کی صوت پیدا نہیں کرسکتے۔ آزمائش شرط ہے۔

بات شروع ہوئی تھی واول اور کانسونینٹ میں فرق کرنے کی۔ واول ہر وہ صوت ہوتی ہے جو تب پیدا ہوتی ہے جب آپ کا air passage way یعنی ہوا کے اخراج کا رستہ مکمل طور پر کھلا ہو اور اس میں کہیں رکاوٹ موجود نہ ہو۔ یعنی حلق، تالو بلند، ہونٹ اور ناک دونوں مکمل طور پر کھلے۔ اس سے وہ بنیادی بیس ساؤنڈ پیدا ہوتی ہے جسے آپ ‘آآآ۔۔’ سے تشبیہ دیتے یا پھر واول کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ کانسونینٹ ہر وہ صوت ہوتی ہے جس کے پیدا ہوتے وقت آپ کا air passage way کہیں نہ کہیں سے مکمل یا جزوی طور پر بند ہو اور یوں اس بنیادی صوت یعنی واول میں ترمیم ہوجائے۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ کانسونینٹ دراصل واول سے ہی جنم لیتے ہیں۔

اس کو سمجھنے کے لیے آپ بنسری کی مثال بھی لے سکتے ہیں۔ بنسری کے ایک سرے میں جب پھونک ماری جاتی ہے تو ایک سیٹی نما سریلی آواز پیدا ہوتی ہے۔ بنسری کی اصطلاح میں آپ اسے واول کہیں گے۔ غیر واول اصوات یعنی کانسونینٹ پیدا کرنے کے لیے بنسری پر موجود مختلف سوراخوں کو یوں انگلیوں سے بند کیا اور کھولا جاتا ہے کہ مختلف سر یعنی اصوات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

بائ دا وے اب آپ کو سمجھ آگئی ہوگی کہ قوال قوالی شروع کرنے سے قبل کیوں کافی دیر آآآ۔۔۔۔۔ کرتے ہیں۔ لیکن ٹھہریں، میں نے آپ کو تو نہیں کہا، آپ تو شروع نہ ہوجائیں۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لافنگ گیس یا نائٹرس آکسائڈ

مصری ممی۔۔۔تین ہزار سال بعد دوبارہ بول اٹھی؟