in ,

مصری ممی۔۔۔تین ہزار سال بعد دوبارہ بول اٹھی؟

جی ہاں، قدیم مصری پروہت نسیامن، جس کی حنوط شدہ لاش برطانیہ کے شہر لیڈز کے سٹی میوزیم میں محفوظ ہے، کی آواز تین ہزار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ سنی گئی ہے۔ لیکن ٹھہریں، ڈریں مت ۔۔۔۔ پہلے اپنی غلط فہمی دور کرلیں ۔۔۔۔ ممی دوبارہ زندہ نہیں ہوئی اور نہ ہی دنیا کی تباہی کی غرض سے میوزیم سے فرار ہوگئی ہے۔ بلکہ حسب سابق اپنے تابوت میں ہی بےخبر محو خواب ہے اور یقیناً رہے گی۔ لہذا بے فکر ہوکر سو جائیں۔

آواز کی تفصیل میں جانے پہلے پروہت نسیامن کے متعلق کچھ جانکاری لیتے ہیں کہ یہ صاحب تین ہزار سال قبل کیا کرتے تھے کہ اب یوں دنیا کے لیے تماشا بنے پڑے ہیں۔ آرکیالوجی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ نسیامن گیارہ سو قبل مسیح کے فراعنہ مصر کے سلسلے کے بیسویں فرعون رعمسیس گیارہ کے دور سے تعلق رکھتا تھا، اور پیشے کے اعتبار سے ایک ‘واب پریسٹ’ یعنی سب سے چھوٹے درجے کا پادری یا پروہت تھا جس کا کام لوگوں کی تدفین کی رسمیں ادا کرنا اور دعائیں پڑھنا وغیرہ ہوتا تھا۔ بہرحال یہ سب سے بڑے مصری دیوتا آمون کے بت کی زیارت کرسکتا تھا جہاں عام مصریوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ پچاس کے پیٹے میں تھا کہ الرجی کا شکار ہوکر لقمہ اجل بنا۔ اس کی حنوط شدہ لاش 1820 کے عشرے میں قدیم مصری شہر تھیبیز کے معبدوں کے کمپلیکس ‘کارنیکل’ میں دریافت ہوئی۔ یاد رہے کہ تھیبیز کا موجودہ نام لگژر ہے اور یہ جنوبی مصر میں دریائے نیل کے مشرق کی سمت واقع ہے۔

1823 میں اسے برطانیہ کے شہر لیڈز کے سٹی میوزیم میں لا کر رکھا گیا، جہاں یہ شائقین اور محققین دونوں کے لیے ہر دور میں ہی تجسس اور دلچسپی کا سامان بنی رہی۔ اس ممی کی آواز سننے کا خیال کس کو اور کیسے آیا؟ یہ دراصل اس تحقیق کے سربراہ اور لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ ہاورڈ اور یارک یونیورسٹی کے آرکیالوجسٹ جون شوفیلڈ کی باہمی گفتگو کا نتیجہ ہے۔ لیکن نسیامن کی ممی کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا۔ دراصل نسیامن کی لاش، خاص طور پر اس کے منہ کا اندرونی حصہ، حلق، تالو وغیرہ، کافی حد تک محفوظ اور اصل حالت میں تھا۔ صرف اس کی زبان کے کچھ مسلز متاثر تھے اور حلق کا کوا یعنی سوفٹ پلیٹ غائب تھا۔
بہرحال جب نسیامن کی ممی کا انتخاب ہوگیا تو اگلا مرحلہ اس کے آواز پیدا کرنے والے تمام نظام اور اعضاء کا معائنہ کرنا تھا جو اخلاقی طور پر اس شخص کی اجازت کے بغیر درست نہ تھا۔ لیکن مردوں سے اجازت چہ معنی دارد؟ اس مسئلہ کو بھی حل کر لیا گیا۔۔۔۔ جب اس کے مرصع تابوت کا بغور جائزہ لیا گیا۔ اس پر کچھ یوں تحریر تھا: “کاش میں کبھی دوبارہ اسی طرح دیوتاؤں کے حضور دعائیں پڑھ سکتا جس طرح اپنی زندگی میں پڑھا کرتا تھا”۔ یوں اخلاقی طور پر اجازت والی الجھن بھی دور ہوگئی۔

عملی کام کا آغاز اس ممی کے اندرونی صوتی نظام یعنی منہ اور ناک کے جوف، حلق یعنی فیرنکس، اور ساؤنڈ باکس یا لیرنکس کی اسکیننگ کرنے سے ہوا۔ اس سے انہیں اس کے صوتی نظام کی اندرونی ساختی خصوصیات کا درست اندازہ ہوگیا، اور انہی معلومات کی مدد سے انہوں نے تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے اس کے آواز پیدا کرنے والے نظام کی مصنوعی نقل تیار کرلی۔ اور جب انہوں نے اس نظام کو ایک مصنوعی لیرنکس سے منسلک کیا اور اس میں سے ہوا گزاری تو ایک انسانی آواز پیدا ہوئی جو انگریزی کے سلیبل ‘bad’ یا پھر ‘bed’ کے واول ساؤنڈ سے مشابہ تھی۔ یقینی طور پر اس آواز کی فریکونسی عین وہی تھی جس فریکونسی سے وہ پروہت زندگی میں آواز پیدا کیا کرتا تھا۔ اس ایک لفظ کے علاوہ فی الحال کوئی اور لفظ یا کلمہ تو نہ سنا جاسکا، کیونکہ تحقیق کاروں کے بقول ممی کی پوزیشن بالخصوص اس کے سر اور حلق کا لیٹی ہوئی حالت میں انداز ایسا ہے کہ اس کی اسکیننگ سے حاصل شدہ معلومات کی مدد سے جو مصنوعی صوتی نظام بنایا گیا وہ کوئی اور لفظ بولنے کے قابل نہیں۔ لیکن انہیں امید ہے کہ جلد وہ یہ مسئلہ بھی حل کرلیں گے، اور عنقریب ہی اس آواز میں پورے فقرات یا دعائیں سننے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔

اس تحقیق کا بظاہر تو کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ماسوائے اس کے کہ پہلی بار آج سے تین ہزار سال قبل کے فوت شدہ شخص کی آواز کو دوبارہ سے سننے کا کارنامہ سر انجام دے لیا گیا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ سائنس نے ایک اور ناممکن کام سر انجام دے کر امکانات کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ اور اس حوالے سے ماہرین پر امید ہیں کہ مستقبل میں اس تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے آوازوں کے پیدا ہونے اور زبانوں کے ارتقائی مراحل سمجھنے میں مدد ملے گی۔ فی الوقت تو سیاحوں کو اس آواز میں پڑھی گئی دعائیں سنا کر محظوظ کرنے کا ہی سوچا جارہا ہے کہ یوں وہ اپنے آپ کو حقیقی طور پر اس دور میں محسوس کر سکیں گے جب پروہت اور پجاری ان معبدوں میں عبادت اور دعائیں کیا کرتے تھے۔
تالیف و تلخیص اعجاز حسین عباسی۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

واولز اور کانسونینٹس

ہم جمائی کیوں لیتے ہیں؟