in ,

لافنگ گیس یا نائٹرس آکسائڈ

*لافنگ گیس یا نائٹرس آکسائڈ*
(تحریر۔ اعجاز حسین عباسی)

تعارف۔
نائٹرس آکسائیڈ یعنی N2O کو لافنگ گیس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اگر ایک دو منٹ تک اس میں آکسیجن ملا کر سانس لیا جائے تو انسان بے اختیار ہنسنے اور قہقہے لگانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے، آئیے اس گیس کی کیمسٹری کا مطالعہ کرتے ہیں۔

نام اور خصوصیات۔
اس گیس کا کیمیائی فارمولہ N2O ہے۔ کیمیائی طور پر اسے نائٹرس آکسائیڈ، ڈائی نائٹروجن مونو آکسائیڈ یا پھر اکیلا نائٹرس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بے رنگ گیس ہے، جس کی بو اور ذائقہ خوشگوار میٹھا سا محسوس ہوتا ہے۔

بنانے کا طریقہ۔
*بنانے کا طریقہ بھی اس کا کافی آسان ہے۔ عام طور پر اسے امونیم نائٹریٹ کو گرم کرکے بنایا جاتا ہے اور پھر سلنڈرز یا غباروں میں بھر کر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن احتیاط رہے، امونیم نائٹریٹ کو گرم کرنا انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ ذرا زیادہ گرم کرنے پر یہ دھماکہ خیز انداز میں پھٹ جاتا ہے، لہذا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ہنسنے کے شوق میں آپ اپنے گھر والوں کو رلانے کا سامان کر بیٹھیں۔
NH4NO3 → N2O + 2H2O
*اس کے علاوہ اسے زنک اور نائٹرک ایسڈ کا ری ایکشن کروا کر یا پھر ہائیڈروکسل امین ہائیڈروکلورائیڈ (NH2OH.HCl) اور سوڈیم نائٹرائٹ (NaNO2) کو ملا کر بھی پیدا کیا جاتا ہے۔

|دریافت|
*اس کی دریافت کا سہرا انگریز کیمیا دان جوزف پریسلے کے سر بندھتا ہے۔ لیکن پریسلے سے بھی پہلے 1768 میں جوزف بلیک نے بھی اس کا ذکر کیا تھا جب اس نے امونیم نائٹریٹ کو گرم کیا اور بتایا کہ اس میں سے کچھ بخارات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بطور ایک علیحدہ گیس کے اسے وہ پہچان نہ پایا، لہذا دریافت کے اعزاز سے محروم رہا۔

*جوزف پریسلے نے سٹیفن ہیلز کے سائنسی اپریٹس کو استعمال کیا جو اس نے گیسوں کو پانی کے اوپر الگ اور اکٹھا کرنے کے لیے بنایا تھا، اور کئی گیسیں الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی جن میں NO, NO2, N2, N2O, HCl, O2 & SO2 وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے N2O ہی وہ گیس ہے جسے آج ہم نائٹرس آکسائیڈ یا پھر لافنگ گیس کے نام سے جانتے ہیں۔ اور یہ بات ہے سن 1772 کی۔ لیکن پریسلے اسے لافنگ گیس کے نام سے نہیں جانتا تھا اور نہ وہ اس کے ہنسانے والے کردار سے واقف تھا۔ وہ اسے بجھی ہوئی یا مردہ نائٹرس ایئر (nitrous air diminished) کے نام سے پکارتا تھا کیونکہ یہ گیس اسے تب حاصل ہوئی جب اس نے NO یعنی نائٹرک آکسائیڈ گیس جسے وہ نائٹرس آکسائیڈ کہتا تھا، کو لوہے کی گیلی کترنوں پر سے گزارا تھا۔ بہرحال پریسلے اسے ایک زہریلی گیس سمجھتا تھا، لہذا نہ خود اس نے اس پر مزید کوئی کام کیا اور نہ کئی سالوں تک کسی اور سائنسدان نے ایسی ہمت کی۔

*یہ ہمت 1799 میں ایک اور انگریز کیمیا دان ہمفری ڈیوی نے کی جو برسٹل یو کے میں نیومیٹک انسٹیٹیوٹ کا لیب سپرٹینڈنٹ متعین ہوا۔ ڈیوی جانتا تھا کہ پریسلے نے اس گیس کو زہریلا کہا ہے، لہذا اس نے کسی اور کی زندگی داؤ پر لگانے کی بجائے، اپنے آپ پر اس کے تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت اس کی عمر فقط بیس برس تھی۔ اسے ایک معاون درکار تھا جو کسی خطرناک صورتحال میں تجربے کو روک سکے اور اس کی جان بچانے کی کوشش کرسکے۔ یہ ذمہ داری ڈاکٹر کنگ لیک نے سنبھالی۔ پہلی دفعہ ڈیوی نے تقریباً ایک گیلن گیس سانس کے ذریعہ اپنے جسم میں داخل کی۔ اس کے معاون ڈاکٹر کنگ لیک کا ہاتھ گیس کے لیور پر تھا کہ جوں ہی ڈیوی کا اشارہ ہو، وہ گیس کی ترسیل روک دے۔ نتائج ڈیوی کے لیے بہت سنسنی خیز تھے۔ گیس سونگھے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اسے عجیب وغریب شکلیں اور اصوات محسوس ہونا شروع ہوگئیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا اور خوشگوار محسوس کر رہا تھا۔ درد کا احساس ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بقول اس کا دل بے اختیار ہنسنے اور قہقہے لگانے کو کر رہا تھا۔ یہ اس سے بالکل مختلف تھا جو پریسلے نے اس گیس کے متعلق کہا تھا۔ بعد میں اس نے اس گیس پر مزید تجربات کیے، جن میں وہ گیس کی مختلف مقدار استعمال کرتا، حتیٰ کہ وہ دن میں تین تین بار اس گیس کو اپنے پھیپھڑوں میں اتارتا، اور اپنی کیفیات کا تجزیہ کرتا ہے۔ ان تمام تجربات کا ذکر اس نے اپنی کتاب میں کیا ہے، جس کے آخر میں وہ تجویز کرتا ہے کہ اس گیس کو سرجری کے دوران مریض کی تکلیف کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال عملی طور پر یہ اس وقت ممکن ہوا جب 1844 میں امریکی ماہر دندان ہوریس ویلز نے اسے دانتوں کی سرجری کے دوران اپنے مریض پر آزمایا۔ ڈیوی نے خیر اس گیس کو اپنے حلقہ احباب میں مختلف نامور شخصیات متعارف کروانا شروع کردیا تھا۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اس نے تو لافنگ گیس کی پارٹیاں شروع کردی تھیں، جن میں معاشرے کی ایلیٹ کلاس اکٹھی ہوتی اور لافنگ گیس سونگھ کر قہقہے لگانا شروع کردیتی۔ ‘لافنگ گیس’ یہ نام سب سے پہلے ڈیوی نے ہی اس گیس کو دیا تھا۔

|موجودہ استعمالات|
موجودہ دور میں نائٹرس آکسائیڈ کو مختلف مقاصد میں استعمال کیا جارہا ہے:

1) بطور تفریح۔
کئی ملکوں میں لافنگ گیس کے بطور تفریح اور ہلے گلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن کئی دوسرے ممالک میں اس کے نشہ آور اور دیگر نقصان دہ اثرات کی بنا اس کے استعمال پر پابندی ہے۔

2) انیستھیزیا۔
اس کا سب سے زیادہ استعمال معمولی آپریشنز میں درد دور کرنے والی دوا کے طور پر کیا جاتا ہے، خاص طور دانتوں کی سرجری میں، اور عورتوں میں بچے کی پیدائش کے دوران ہونے والی تکلیف کو دور کرنے کے لیے۔ کیونکہ اس کی ایک خوبی ہے کہ اسے سونگھنے سے بندہ بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ بیدار رہتا ہے لیکن اسے تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ لیکن بڑی اور نازک قسم کی سرجری میں اسے استعمال نہیں کیا جاتا جہاں خون کے اخراج کا بھی خطرہ ہو۔ بلکہ اس کی جگہ ایتھر وغیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔

3) موٹر اور راکٹ فیول۔
گاڑیوں کے انجن میں فیول جلنے کے دوران آکسیجن کی مقدار بڑھانے کے لیے بھی اسے نائٹرس کے نام سے استعمال کیا جاتا۔ خاص طور پر فارمولہ ون ریس والی گاڑیوں میں جہاں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دراصل ٹوٹ کر نائٹروجن اور آکسیجن پیدا کرتی ہے، اور یہ آکسیجن انجن میں فیول کے جلنے کے عمل کو تیز کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ راکٹ فیول میں بھی اسے اسی مقصد کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔

4) وپڈ کریم۔
فوڈ انڈسٹری میں نائٹرس آکسائیڈ کا زیادہ استعمال وپڈ کریم (whipped cream) بنانے میں ہوتا ہے۔ کریم کے اندر نائٹرس آکسائیڈ مکس کی جاتی ہے۔ جب یہ چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی صورت میں اوپر اٹھتی ہے تو کریم کا حجم کم ازکم چار گنا بڑھ جاتا ہے، جو پھر کیکس، پیسٹری وغیرہ کے اوپر استعمال ہوتی ہے۔

|نقصانات|
لافنگ گیس کے کثرت استعمال کے نقصانات کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ مثلاً:
1) دماغی یا ذہنی انتشار
2) ٹانگوں میں درد یا بے حسی کا احساس
3) سر درد، متلی، نیند کی زیادتی، پسینہ زیادہ آنا، جسمانی کپکپاہٹ وغیرہ۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بھنورا شمع یا آگ کی جانب کیوں کھنچتا اور آخر جل مرتا ہے؟ سائنسی وضاحت درکار ہے؟

واولز اور کانسونینٹس