in , ,

ذبیحہ کا درد ۔۔۔ ایک جانبدارانہ مطالعہ۔

ذبیحہ کا درد ۔۔۔ ایک جانبدارانہ مطالعہ۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
(تحریر۔ اعجاز عباسی)

یہودیوں اور مسلمانوں میں جن دو باتوں پر دنیا بھر میں مثالی اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے، ان میں سے ایک حلال ذبیحہ ہے۔ یہ الگ بات کہ یہود اپنے ذبیحہ کو کوشر اور مسلمان حلال گوشت کہتے ہیں۔ دوسرا اتفاق کس بات پر ہے؟ ۔۔۔ میرے خیال میں سمجھدار کو بتانے کی ضرورت نہیں، اور ناسمجھ کو بتانے کا فائدہ نہیں۔ لہذا موضوع کی جانب آتے ہیں اور بات کرتے ہیں ذبیحہ کے درد کی، جو کچھ کچھ مرزا غالب کے درد سے یوں ملتا جلتا ہے کہ:
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
اور رہی بات جانبدارانہ مطالعہ کی ۔۔۔۔۔ تو یہ بھی سچ ہے کیونکہ ایک ہی مظہر کے مشاہدے سے ہر کوئی اپنے طبعی رجحانات اور نظریات کے اعتبار سے مختلف نتائج اخذ کرتا ہے۔ لہذا بطور مسلمان میرا تجزیہ کسی حد تک جانبدارانہ تو ضرور ہوگا لیکن ہوگا مبنی بر حقیقت۔ اور از روئے تفنن، جب عید قربان میں سے عید ہمارے حصے میں اور قربانی بکرے کے حصے میں آئے تو مطالعہ غیر جانبدارانہ ہو بھی کیسے سکتا ہے!!!
بات ہو رہی تھی مذبوح کے درد کی، کہ ذبح ہونے والے جانوروں کے کچھ نام نہاد اور بزعم خویش ہمدرد ہمیشہ ہی اس بات پر معترض پائے گئے ہیں کہ جانوروں کو اسلامی طریقہ سے ذبح کرنا انتہائی ظالمانہ ہے اور اس سے جانوروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ بظاہر اپنے موقف کے حق میں وہ بوقت ذبح جانور کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں مارنا بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ سطحی طور پر تو یہ دلیل درست محسوس ہوتی ہے، لیکن گہری تحقیقی نگاہ میں انتہائی بودی اور کمزور۔ کیونکہ اکثر حقائق ایسے ہوتے نہیں جیسے نظر آرہے ہوتے ہیں۔ جس کا ثبوت جرمنی کی “یونیورسٹی آف ہینوور” کے پروفیسر Schultz اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر Hazem کا تحقیقی کام ہے جس میں انہوں نے عملی تجربے سے ثابت کیا کہ اسلامی طریقہء ذبح انتہائی رحمدلانہ اور سب سے اچھا ہے، کیونکہ اس میں جانور کو کم سے کم تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ’’کیپٹِوبولٹ اسٹننگ‘‘ (Captive Bolt Stunning) سے جانور کو بہت زیادہ اذیت پہنچتی ہے۔
اس تجربے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اسلامی طریقہء ذبح اور مغربی ممالک میں کثرت سے رائج طریقے (جس میں جانور کو پہلے سٹن (Stun) یعنی بیہوش یا بےحس و حرکت کیا جاتا ہے اور اس کے بعد گلے پر چھری پھیر کر خون بہایا جاتا ہے) میں جانور کو پہنچنے والی تکلیف میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے کس طریقے میں خون تیز رفتاری سے اور زیادہ سے زیادہ مقدار میں نکل جاتا ہے اور کس طریقے میں جانور جلدی بے ہوش ہوتا ہے اور اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہر جانور کا electroencephalogram (EEG) اور Electrocardiogram (ECG) کیا گیا ۔

تجربے کی تفصیلات:
یہ تجربہ 10 بچھڑوں اور 17 بھیڑوں پر کیا گیا اور اس میں درج ذیل امور سر انجام دیے گئے:
1۔ سب سے پہلے تمام جانوروں کی کھوپڑیوں میں سرجری کر کے Electrodesاس طرح لگائے گئے کہ یہ دماغ کی سطح کو چھو رہے ہوں۔
2۔ اس کے بعدجانوروں کو روبہ صحت ہونے کے لیے کئی ہفتے تک چھوڑدیا گیا۔
3۔ اگلے مر حلے میں کچھ جانوروں کو تیز دھار چھری استعمال کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے مطابق ذبح کیا گیا اور کچھ جانوروں کو ــ’’ کیپٹو بولٹ پسٹل ‘‘کے ذریعے سٹن کیا گیا ۔
4۔ اس پورے عمل کے دوران ECG اور EEG کے ذریعے ہر جانور کے دل و دماغ کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کیا گیا۔
شرعی طریقہ ذبح کے نتائج:
1۔ ذبح کرنے کے بعد پہلے تین سیکنڈ کے دوران گراف میں کوئی تبدیلی نہ آئی جس سے صاف ظاہر تھا کہ اس دوران یا فوراً بعد جانور کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔
2۔ اگلے تین سیکنڈ میں EEG نے ایسی بے ہوشی ظاہر کی جیسی نیند کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خون بہت بڑی مقدار میں اور تیزی سے نکل رہا تھا۔
3۔ ان 6 سیکنڈ کے بعد EEG صفر پر تھا اور اس سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ اس وقت جانور کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
4۔ جونہی EEG صفر پر آیا تو دل ابھی تک دھڑک رہا تھا اور جسم سکڑ رہا تھا جس کی بدولت جسم سے زیادہ سے زیادہ خون باہر نکل رہا تھا ( اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر جانور کے جسم سے سارا خون نکل جائے تو صارفین کو بیماریوں سے پاک صحت افزا گوشت ملتا ہے)۔

کیپٹو بولٹ اسٹننگ کے نتائج:
1۔ اسٹننگ کے فوراً بعد ہی جانور بظاہر بے ہوش ہوگئے۔
2۔ اسٹننگ کے فوراً بعد EEG سے شدید تکلیف ظاہر ہو رہی تھی۔
3۔ سٹن کیے گئے جانوروں کے دل کی دھڑکن شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے جانوروں کی دل کی دھڑکن کے مقابلے میں پہلے رُک گئی۔ اس کے نتیجے میں ان جانوروں کے گوشت میں زیادہ خون باقی رہ گیا (اور ایسی صورت میں بیماریوں سے پاک صحت افزا گوشت نہیں مل سکتا)۔

دیگر تحقیقات کے نتیجے میں اسٹننگ کے نقصانات:
کچھ اور اداروں نے بھی تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ اسٹننگ کے متعدد نقصانات ہیں، جیسے:
٭ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹننگ سے دماغ کے ٹِشو جانور کے پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں اور اگر ایسا جانور میڈ کاؤ بیماری میں مبتلا ہو تو اس کا گوشت انسانوں میں ’’میڈ کاؤ‘‘ بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ جانور کے دماغ اور حرام مغز ہی میں اس بیماری کے سب سے زیادہ جراثیم ہوتے ہیں ۔

٭ ٹیکسساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور کنیڈا کی فوڈ انسپکشن ایجنسی کی تحقیق کے مطابق Pneumatic اسٹننگ سے اتنی زور دار ضرب لگتی ہے کہ دماغ کے ذرات گائے کے پورے نظام میں پھیل جاتے ہیں حتیٰ کہ یہ پھیپڑوں اور جگر تک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ امریکا میں 30 سے 40 فیصد اسٹننگ اسی طریقے سے ہوتی ہے۔

٭ اگر اسٹننگ درست نہ ہو پائے تو جانور کو دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ 1996ء میں یورپی کمیشن کی سائنسی کمیٹی نے رپورٹ دی تھی کہ 5 سے 10 فیصد جانوروں کی کیپٹوبولٹ اسٹننگ درست نہیں ہوتی۔

٭ اگر اسٹننگـ ’’ریورسیبل‘‘ ہو اور گردن کاٹنے میں تاخیر ہو جائے تو جانور کے ہوش میں آنے کے سبب مقصد فوت ہو جاتا ہے اور اسے بلا وجہ دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک ادارے VIVA نے رپورٹ دی کہ مجوزہ وقفہ 20 سے 40 سیکنڈز کا ہے، لیکن عملاً بھیڑوں کے لیے 70 سیکنڈ کا وقفہ ہوجاتا ہے جس سے وہ ہوش میں آجاتی ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذبح کے وقت انہیں دوبارہ تکلیف سے گزرنا پڑتاہے ۔

٭ نیورولوجسٹ ڈاکٹر ہیرالڈ ہل مین بھی اسٹننگ کو انتہائی تکلیف دہ خیال کرتے ہیں ۔ ان کے مطابق اس کے تکلیف دہ ہونے کی واضح دلیل یہ ہے کہ کچھ ملکوں میں قیدیوں کو بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے ہی سزائیں دی جاتی ہیں (ا گر اس سے تکلیف نہ ہوتی تو یہ سزا نہ دی جاتی)۔ جانور اس تکلیف کا اظہار چیخ کر یا حرکت کر کے اس لیے نہیں کر سکتے کہ اس کرنٹ سے وہ مفلوج ہو جاتے ہیں۔

٭ اسٹننگ سے خون کی چھوٹی چھوٹی رگیں پھٹ سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں خون گوشت میں سرایت کر سکتا ہے۔

٭ اسٹننگ کی وجہ سے جانور کا جسم مفلوج ہوجاتا ہے ، خون کا بہاؤ بھی صحیح طریقے سے نہیں ہوپاتا، جس کی وجہ سے انتہائی زہریلے بیکٹیریا اور دیگر مادے گوشت کے اندر ہی رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ جب انسان اس گوشت کو استعمال کرتا ہے تو یہ زہریلے مادے اس کے جسم میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

یہ تمام نتائج اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ جانور کو ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ آسان، کم تکلیف دہ اور عین فطرتی ہے، اور اس کے ذریعہ بہترین، پاکیزہ اور صحت بخش گوشت، بغیر جانور کو اضافی تکلیف پہنچائے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ سائنسی حلقوں میں اس کے متوازی یا برعکس آراء بھی پائی جاتی ہیں۔ لیکن وہی پہلی بات کہ کس کی تحقیق اور نتائج کا تجزیہ غیر جانبدار ہے، اپنی جگہ ایک تحقیق طلب کام ہے۔ اس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ ایسے امور میں ہم مسلمان خود آگے بڑھیں اور اپنی تحقیق و تخلیق کے ذریعے اسلام کی ابدی سچائیوں کو سامنے لائیں۔ والسلام۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ذبیحہ کی سائنس۔

آکسیجن جلاتی ہے، مگر جلتی نہیں۔ ہائڈروجن جلتی ہے، مگر جلاتی نہیں۔ دونوں ملتے ہیں تو پانی بنتا ہے، جو نہ جلتا ہے نہ جلاتا ہے، بلکہ جلتے کو بجھاتا ہے؟