in ,

بھنورا شمع یا آگ کی جانب کیوں کھنچتا اور آخر جل مرتا ہے؟ سائنسی وضاحت درکار ہے؟

سوال سادہ لیکن جواب بہت پیچیدہ ہے، اور سچ بات تو یہ ہے کہ ابھی تک سائنسدان بھی کسی یقینی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ بھنورے شمع یا آگ کی جانب کیوں لپکتے اور جل مرتے ہیں۔ فی الحال اس حوالے سے مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔

مثلاً ایک نظریہ یہ ہے کہ بھنورے آسمانی منور اجسام جیسے چاند ستارے وغیرہ کو افقا” یا عمودا” ایک خاص مستقل زاویے پر رکھ کر اپنی حرکت کی سمت متعین کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ کسی قریبی روشنی کے ماخذ کے اعتبار سے اپنی حرکت کا ایک خاص زاویہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو آسمانی اجسام کی نسبت فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے ان کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ اس زاویے کو مستقل رکھنے کی کوشش میں وہ روشنی کی جانب مڑتے چلے جاتے ہیں اور آخرکار سپائرل یعنی لہر دار حرکت کرتے ہوئے شعلے میں جا گرتے ہیں۔ اس کو transverse orientation کہتے ہیں۔ آسانی کی خاطر اس کو یوں سمجھیں کہ اگر وہ چاند کو آسمان پر ساٹھ کے زاویے پر رکھ کر افق کے ساتھ ساتھ سیدھی حرکت کریں تو جتنا بھی زمین پر فاصلہ طے کرلیں، چاند کے ساتھ ان کا زاویہ تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ چاند کے بہت زیادہ فاصلے پر ہونے کی وجہ سے زاویے میں ہونے والا انتہائی معمولی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ لیکن اگر شمع یا روشنی سامنے دیوار پر ہو اور بھنورا اس کے ساتھ ساٹھ کا زاویہ بناتے ہوئے اس سے اوپر یا سائڈ سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو شمع کے ساتھ اس کا زاویہ بڑھتا جائے گا۔ زاویہ کو مستقل رکھنے کی کوشش میں وہ شمع کی جانب مڑتا چلا جائے گا اور آخر کار چکر کاٹتا کاٹتا اس کے اندر جا گرے گا۔ لیکن اس نظریے پر کچھ اعتراضات بنتے ہیں مثلاً اس صورت میں ارتقائی طور پر پھر ان کی بقا کیسے ممکن ہوئی کیونکہ آگ کا استعمال تو کافی پرانا ہے اور تمام بھنوروں کو یوں کب کا جل مرنا چاہیے تھا۔

ایک نظریہ یہ ہے کہ شمع میں سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ روشنی میں سے چند فریکوئنسیز مادہ بھنوروں کی جنسی ہارمونز یا فیرومونز میں سے نکلنے والے فریکوئنسیز سے مماثل ہوتی ہیں۔ یوں بھنورا شمع یا دیے کی روشنی کو مادہ کی جانب سے میٹنگ سگنکل یعنی ملاپ کے اشارے سمجھتے ہوئے وصل کی خواہش میں اس کی جانب کھنچتا ہے اور جل مرتا ہے۔ لیکن اس پر بھی بڑا اعتراض یہ ہے کہ بھنورے اور دوسرے حشرات انفرا ریڈ کی نسبت الٹرا وائلٹ لہروں کی جانب بہت زیادہ کھنچتے ہیں۔ تو پھر وہ الٹرا وائلٹ کو چھوڑ کر انفرا ریڈ کو ہی جنسی ملاپ کے ذریعے کے طور پر کیوں استعمال کرتے ہیں۔

تیسرا نظریہ یہ ہے کہ جن دنوں میں چاند پورا نکلا ہو ان دنوں میں بھنورے کم پکڑے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ چاند یعنی روشنی کی جانب پرواز کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ شمع یا شعلے کی جانب بھی حرکت کرتے ہوں گے اور جل جاتے ہوں گے۔ لیکن یہ کوئی سنجیدہ سائنسی نظریہ نہیں کیونکہ تحقیق بتاتی ہے کہ روشن راتوں میں بھنوروں کا دستیاب یا پکڑا نہ جانا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ روشنی میں بہت کم سرگرم اور متحرک جبکہ تاریک راتوں میں بہت متحرک ہوجاتے ہیں اور ان کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے۔

قصہ مختصر، سائنسی طور پر ابھی یہ ایک راز ہی ہے کہ بھنورے کیونکر روشنی یا آگ کی جانب لپکتے ہوئے اس میں جل مرتے ہیں۔ سائنسدان ابھی تک کسی مطمئن کردینے والے نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

آکسیجن جلاتی ہے، مگر جلتی نہیں۔ ہائڈروجن جلتی ہے، مگر جلاتی نہیں۔ دونوں ملتے ہیں تو پانی بنتا ہے، جو نہ جلتا ہے نہ جلاتا ہے، بلکہ جلتے کو بجھاتا ہے؟

لافنگ گیس یا نائٹرس آکسائڈ